کراچی۔4فروری (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ جمہوریت کے روشن مستقبل کے لئے جمہوری اداروں کے پریذائیڈنگ آفیسرز کے مابین قریبی روابط، جمہوری عمل میں نوجوانوں کی شمولیت اور جدت ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور 2ویں مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل پارلیمانی کانفرنس کی افتتاحی …
جمہوریت کے روشن مستقبل کے لئے جمہوری اداروں کے پریذائیڈنگ آفیسرز کے مابین قریبی روابط، جمہوری عمل میں نوجوانوں کی شمولیت اور جدت ناگزیر ہے، سردار ایاز صادق

مزید خبریں
کراچی۔4فروری (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ جمہوریت کے روشن مستقبل کے لئے جمہوری اداروں کے پریذائیڈنگ آفیسرز کے مابین قریبی روابط، جمہوری عمل میں نوجوانوں کی شمولیت اور جدت ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور 2ویں مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل پارلیمانی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس کراچی میں صوبائی اسمبلی سندھ کے زیرِ اہتمام 3 فروری 2026 تا 7 فروری 2026 تک منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس میں سی پی اے کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے سپیکرز/پریذائیڈنگ آفیسرز، پارلیمانی وفود، وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ، پاکستان کی صوبائی و قانون ساز اسمبلیوں کے سپیکرز اور سی پی اے کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی نے تمام بین الاقوامی مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی شرکت کو مشترکہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں کے سپیکرز باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں تاکہ باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے، بین الصوبائی ہم آہنگی مضبوط ہو اور جمہوری نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں اور قانون ساز اداروں کے قواعد مختلف تھے تاہم باہمی مشاورت سے یکساں قواعد وضع کئے جو پارلیمانی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال ہے۔سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنے ہم منصبوں سے خطاب کو اعزاز قرار دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا فروغ صرف باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے اس اہم کانفرنس کے انعقاد پر صوبائی اسمبلی سندھ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ سندھ ہمیشہ سے ثقافت، مکالمے اور جدت کا مرکز رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی نے 1946ء میں پاکستان کی پہلی خاتون ڈپٹی سپیکر جیتی بائی تلسی داس کو منتخب کیا اور پاکستان اور ایشیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے تھا۔کانفرنس کے موضوع ’’اعتماد، شمولیت، جدت اور امن‘‘پر روشنی ڈالتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ محض نظریات نہیں بلکہ مستقبل کے جمہوری ڈھانچوں کی بنیاد ہیں اور پاکستان کی قومی امنگوں کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تاہم قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی محض 2 تا 3 فیصد ہے جو ایک سنگین جمہوری خلا ءہے۔ انہوں نے اس خلا ء کو پُر کرنے کے لئے یوتھ ایڈوائزری کونسلز، منظم انٹرن شپ پروگرامز، نوجوان قیادت کی تربیت اور پارلیمانی کمیٹیوں میں نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیا۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری و سیاسی عمل میں معاشرے کے تمام طبقات سے وابستہ افراد کی شمولیت پائدار جمہوریت کی بنیاد ہے۔ خواتین، اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی نمائندگی کسی رعایت نہیں بلکہ پارلیمنٹیرینز کی بنیادی جمہوری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متنوع پارلیمان مضبوط قانون سازی اور انصاف، مساوات اور وقار پر مبنی طرزِ حکمرانی کو یقینی بناتی ہے۔جدت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی موجودہ طرزِ حکمرانی کے لئے ناگزیر ہے۔ مصنوعی ذہانت و تحقیق پر مبنی قانون سازی اور ای پارلیمنٹ جمہوری نظام میں شفافیت اور عوامی شمولیت میں اضافہ کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوپن ڈیٹا گورننس اور ڈیجیٹل شہری پلیٹ فارمز پارلیمان کو عوام کے قریب لاتے ہیں اور جمہوری احتساب کو مضبوط بناتے ہیں۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ احتساب جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی سسٹم ایگزیکٹو کی نگرانی اور احتساب کے لئے انتہائی موثر پلیٹ فارم ہے جسے مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وفاقیت اور وفاق و صوبوں کے درمیان متوازن اختیارات قومی یکجہتی، مساوی ترقی اور استحکام کے لئے ضروری ہیں، باہمی طرزِ حکمرانی اور بین الپارلیمانی رابطہ قومی ہم آہنگی کے اہم ذرائع ہیں۔علاقائی اور عالمی امن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمان انسانی اصولوں کے فروغ، سیاسی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام حقِ خودارادیت کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی المیے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انصاف، وقار اور انسانی حقوق کی بنیاد پر فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا۔
اختتامی کلمات میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دیانتداری، شفافیت اور جدیدیت مضبوط جمہوری اداروں کی پہچان ہیں، شفاف قانون سازی اور فعال شہری شمولیت عوامی اعتماد کو فروغ دیتی ہے جو جمہوریت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پارلیمان کو مزید نمائندہ، جدید اور جوابدہ بننا ہوگا۔سپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے خطاب کے اختتام پر ہم منصبوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شاید سب سے مشکل ذمہ داری سپیکر کی ہوتی ہے جہاں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو زیادہ وقت دینے پر اعتراض کیا جاتا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے وقت کم ملنے کی شکایت کی جاتی ہے۔








