خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی ابوظہبی میں ‘زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت مجلس 2026’ میں شرکت

ابوظہبی۔4فروری (اے پی پی):پاکستان کی خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی دعوت پر ابوظہبی میں منعقدہ "زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت مجلس 2026" میں شرکت کی۔ یہ مجلس 'زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت' کے سالانہ کیلنڈر کا ایک اہم حصہ ہے جو بقائے باہمی، ہمدردی، مکالمے اور انسانی اتحاد کے لئے متحدہ عرب امارات کے پائیدار عزم کی …

ابوظہبی۔4فروری (اے پی پی):پاکستان کی خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی دعوت پر ابوظہبی میں منعقدہ "زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت مجلس 2026” میں شرکت کی۔ یہ مجلس ‘زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت’ کے سالانہ کیلنڈر کا ایک اہم حصہ ہے جو بقائے باہمی، ہمدردی، مکالمے اور انسانی اتحاد کے لئے متحدہ عرب امارات کے پائیدار عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

​رواں سال کی مجلس اس لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل تھی کہ اسے "خاندان کا سال” کے عنوان کے تحت منعقد کیا گیا جو شیخ محمد بن زاید النہیان کے اس وژن کی ترجمانی کرتا ہے کہ خاندان ہی قومی استحکام، خوشحالی اور تسلسل کی بنیاد ہے۔اماراتی ‘مجلس’ کی عاجزی، دانشمندی اور مہمان نوازی پر مبنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس اجتماع میں عالمی رہنماؤں، مفکرین اور تبدیلی کے علمبرداروں نے شرکت کی تاکہ مشترکہ انسانی اقدار کو عملی اور جامع نتائج میں بدلنے کے لئے مکالمہ کیا جا سکے۔

بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق​خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں شرکت کی جس کا عنوان "انسانی اخوت کے مرکز میں خواتین کی قیادت” تھا۔ اس مکالمے میں ایسی بااثر خواتین رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا جن کے کام نے اپنے ممالک کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔ سیشن کی نظامت ‘دی نیشنل’ (یو اے ای) کی ایڈیٹر انچیف مینا العریبی نے کی۔ بحث کے دوران ہمدردی، اخلاقی جرأت اور جامع طرزِ حکمرانی پر مبنی قائدانہ ماڈلز پر روشنی ڈالی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مضبوط خاندان ہی مربوط معاشروں اور پائیدار سماجی ہم آہنگی کا نقطہ آغاز ہوتے ہیں۔​

اپنے خطاب کے دوران خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذکر کیا جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور کسی بھی مسلم ملک کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی اداروں پر اعتماد صرف ہدایات سے نہیں بلکہ کمیونٹی کی سطح پر سننے، تسلسل اور حقیقی رابطے سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ‘لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام’ کو ریاست اور خاندانوں کے درمیان دو طرفہ رابطے کی ایک طاقتور مثال کے طور پر پیش کیا جو صحت کی سہولیات، ویکسینیشن کی آگاہی اور وقار کو براہ راست خاندانوں کی دہلیز تک پہنچا رہا ہے۔​

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی کا راز اس کا کمیونٹی پر مبنی طریقہ کار ہے جہاں ہزاروں خواتین ہیلتھ ورکرز ایک ہی زبان بولتی ہیں، مقامی سماجی و ثقافتی حالات کو سمجھتی ہیں اور ایک قابلِ اعتماد چہرے کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ حالیہ ویکسینیشن مہمات بشمول ایچ پی وی (HPV) آؤٹ ریچ اور پاکستان کی پہلی ملک گیر پولیو خاتمے کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے خاتونِ اول نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح گھریلو سطح پر اعتماد، ہمدردی اور مکالمہ عوامی صحت کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔

انہوں نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو قومی صحت کے نظام اور خاندانوں، بالخصوص ماؤں اور بچوں کے درمیان ایک اہم کڑی قرار دیا۔ ​خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے آنے والی نسلوں میں اقدار کو فروغ دینے کے لئے تعلیم، خاندان اور قیادت کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچے اس وقت بہتر سیکھتے ہیں جب اقدار کو محض ہدایات کے بجائے روزمرہ کے عمل میں دیکھا جائے۔ اپنے خاندان کی جلاوطنی کے دوران متحدہ عرب امارات میں اپنے سکول دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح ‘ثقافتی ہفتوں’ اور ‘ماحولیاتی آگاہی’ جیسے پروگراموں نے احترام، ذمہ داری اور شہری شراکت داری کی عادات پیدا کیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سکول والدین کو شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں اور والدین سکولوں کو کردار سازی کی جگہ سمجھتے ہیں تو بچے کی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

​اس تناظر میں خاتونِ اول نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے روایت، ثقافتی احترام اور سماجی خدمت پر مسلسل زور دینے کی تعریف کی اور 2026 کو "خاندان کا سال” قرار دینے کو ایک بروقت اور طاقتور پیغام قرار دیا۔​مجلس میں آمد پر زاید ایوارڈ برائے انسانی اخوت کے سیکرٹری جنرل جج محمد عبدالسلام نے خاتونِ اول کا استقبال کیا۔​

پینل مباحثے سے قبل خاتونِ اول نے متعدد ممتاز شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں لبنان کی خاتونِ اول نعمت عون، انڈونیشیا کی سابق صدر میگاوتی سوکارنو پتری، کولمبیا کی خاتونِ اول ویرونیکا الکوسر گارسیا، حیدر علیئیف فاؤنڈیشن کی نائب صدر لیلیٰ علیئیوا اور ازبکستان کے صدر کی انتظامیہ کی سربراہ سعیدہ میرضیایوا شامل تھیں۔​خاتونِ اول کی اس پروگرام میں شرکت انسانی اخوت، جامع قیادت، اور قومی و عالمی سطح پر خاندانی و سماجی اقدار کو مضبوط بنانے کے لئے پاکستان کے پائیدار عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

 

مزید خبریں