لاہور۔4فروری (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،پاکستان کشمیریوں کی ہر فورم پر سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کو حق دلانے کا ضامن ہے،دشمن پاکستان کی ترقی کو نہیں روک سکتا،بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لائیں گے ،کہ حق میں شاندار کامیابی سے بھارت کو پاکستان کی اصل …
کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ،جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا، بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لائیں گے،رانا مشہود احمد خان و خواجہ سعد رفیق

مزید خبریں
لاہور۔4فروری (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،پاکستان کشمیریوں کی ہر فورم پر سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کو حق دلانے کا ضامن ہے،دشمن پاکستان کی ترقی کو نہیں روک سکتا،بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لائیں گے ،کہ حق میں شاندار کامیابی سے بھارت کو پاکستان کی اصل طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز خواجہ رفیق شہید فائونڈیشن کے زیر اہتمام الحمرا ہال میں منعقدہ یوم یکجہتی کشمیر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا- اس موقع پر سابق وفاقی وزیر برائے ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق ، فواد حسن فواد ، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ(ن)آزاد کشمیر چوہدری طارق فاروق ، ،محمد اسلم زار، ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ، سیاسی و سماجی کارکنان کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔
رانا مشہود احمد خان نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل سے ہو کر گزرتا ہے، مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دئیے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں مگر ان کا جذب آزادی آج بھی زندہ ہے،کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت جاری اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اورہر عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو بے نقاب کرتا رہے گا۔انہوں نے کہاکہ میں خواجہ رفیق شہید فائونڈیشن کو یوم کشمیر کے حوالے سے اس تقریب کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتاہوں ،خواجہ سعد رفیق نے ہمیشہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد اور خواجہ سعد رفیق کے والد تحریک پاکستان کے ساتھی رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ ملک خداد لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے، کشمیر کے بغیر یہ پاکستان نامکمل ہے ،لاکھوں کشمیری جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکھ کر اس مسئلہ کو زندہ رکھا ، تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی دشمن نے ملک خداداد کو کمزور کرنے کی کوشش کی کبھی جنگیں مسلط کی گئیں کبھی پاکستان کے وسائل کو روکا گیا ،کبھی بدامنی پھیلائی گئی لیکن یہ ملک قیامت تک قائم دائم رہنے کے لیے بنا ہے او ر قیامت تک قائم دائم رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے معرکہ حق میں شاندار کامیابی کے بعد بدلہ چکا دیا اور دنیا کو بتلا دیا کہ آج کا پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہے ، کسی کو ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہے، بھارت کو پاکستان کی اصل طاقت کا اندازہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مضبوط پاکستان ہی مسئلہ کشمیر کے حل کی ضمانت ہے،بھارت نے کشمیریوں پر جو ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے ،عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس مسئلہ کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب بالکل نا ممکن ہے اور اس خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی آچکی ہے،بنگلہ دیشی عوام پاکستانیوں سے بہت محبت کرتی ہے چونکہ دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی رشتہ ہے اس لیے وہ پاکستانیوں کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دشمن آج بھی ففتھ جنریشن کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام کی ناکام کوشش کر رہا ہے ،وزیر اعظم محمد شہبا زشریف کی مد برانہ قیادت اور اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی سے معرکہ حق میں کامیابی کے بعد یہ بات دشمن پر باور ہو چکی ہے کہ اب وہ وقت نہیں کہ جب تم نے کشمیر میں 370 لگا کرکشمیر پر ناجائز قبضہ کرلو گے میں پیغام دینا چاہتاہوں کہ اب کوئی پاکستان کو ترقی کرنے سے نہیں روک سکتا ہے۔
آج کا پاکستان بالکل مختلف ہے ،مثبت حکومتی پالیسوں کی بدولت گرین کارڈ کی عزت میں اضافہ ہوچکا ہے، قطر یا ایران پر حملے کی بات ہوآج پاکستان کو ثالثی کے لیے بلایا جاتا ہے ، خانہ کعبہ کی حفاظت کی ذمہ داری ہو یا عالمی سطح پر کشمیر اور فلسطین کے مظلوم بھائیوں کی آواز عالمی سطح پر بلند کرنے کی بات ہو پاکستان صحیح معنوں میں اپنا حق ادا رکر رہا ہے،مضبوط پاکستان ہی مسئلہ کشمیر کے حل کی ضمانت ہے،وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔خواجہ سعد رفیق نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ اور شہ رگ ہے ،کشمیری کو استصواب رائے کا حق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ،برصغیر کی تقسیم کا یہ نامکمل ایجنڈہ آج نہیں تو کل ضرور حل ہو گا،جنوبی ایشیا میں امن کشمیر کو آزادی سے وابستہ ہیں ، بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے کشمیریوں کو دبانے کی ناپاک کوشش کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ کشمیر کا حصول ایک خطہ کا حصول نہیں بلکہ اس کا تعلق نظریاتی ہے، جس کے بغیر پاکستان کی نظریاتی قیام کا ایجنڈہ نامکمل ہے ،بھارت ظلم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کر کے کشمیر اور پاکستان کا آپس کا رشتہ ختم نہیں کر سکتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستانی افواج نے کشمیر کے لیے بے شمار قربانیوں دیں، اس مسئلہ پر دونوں ممالک کے درمیان 5 جنگیں لڑی جا چکی ہیں ،بنیان المرصوص کے خمیر میں بھی کشمیر کا تنازعہ شامل ہے،معرکہ حق میں پاک فوج نے اپنے سے گنا بڑے دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبائے،بھارت آج بھی اس شرمناک شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جو ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ،بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بھارت بلوچستان میں پراکسی وار کر رہا ہے،ان کی اس حماقت سے ڈیڑھ ارب انسانوں کو بارود کے ڈھیر پر لاکر کھڑا کردیا گیا ہے ، بھارتی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئے اور دفاعی بجٹ پر خطیر رقم صرف کرنے کی بجائے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی اپنی عوام پر صرف کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیر سے محبت کے نظریہ کے پرچم کو کسی صورت سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی آواز پر 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ،کشمیروں سے اظہار یکجہتی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے اور ہر فورم پر ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ(ن)آزاد کشمیر چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کا رشتہ بھائیوں کا رشتہ ہے ،پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کا یہ رشتہ نظریہ اور عقیدے کا کوئی طاقت اس رشتہ کو ختم نہیں کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا مضبوط پاکستان تمام مسائل کا حل ہے اگر پاکستان کمزور ہو گا تو کشمیری بھی کمزور پڑھ جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستانی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اس سے ہمارا خون بڑھ جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ قائد محمد نواز شریف نے کشمیریوں کو سیاسی لحاظ سے مضبوط کیا،آزاد کشمیر میں منصوبوں کا جال بچھایا، 23ارب کے بجلی کے منصوبے ہوں ،مختلف اضلاع میں 50 ارب روپے کے دانش سکول کا منصوبہ ہو یا60 ارب روپے کی لاگت سے گلگت بلتستان سے ملانے کیلئے ٹنل منصوبہ شروع کروایا،اس سے پہلے کسی کو آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی توفیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ ہمارے خون میں رچا بسا ہے ،ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے،جلدکشمیر پاکستان بن کر رہے گا۔سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم فواد حسن فواد نے کہا کہ کشمیری 3دہائیوں سے بھارتی افواج کے ظلم و جبر کو برداشت کر رہے ہیں ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ، بھارت خود ہی اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور خود ہی اس سے مکر گیا ۔
انہوں نے کہاکہ حکومتیں عالمی ضابطہ کار کے تحت چلتی ہیں ، عوام کے رشتے اس پابندیوں سے ماورا ہوتے ہیں ، کشمیر اور پاکستان کے عوام کے دل اکٹھے دھڑکتے ہیں ، پاکستان کشمیر کے بغیر نہیں رہ سکتا اور کشمیر پاکستان کے بغیر نہیں رہ سکتا ، دنیا بدل رہی ہے ، ہمیں عالمی فورمز پر اس کو آگے لے کر جانا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ خواجہ رفیق نے نظریہ اور اصول کی سیاست کی، اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ، خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ سعد رفیق اس عزم کو آگے لے کر بڑھ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سید علی گیلانی ، یاسین ملک ، آسیہ اندرابی ، برہان وانی نے شہادت کی لازوال داستانیں رقم کیں ،ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، وہ وقت ضرور آئے گا جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔
اس موقع پر کشمیر اور فلسطین کے حق میں قراردادیں پیش کی گئیں جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی دی جائے،ظلم و بربریت کا سلسلہ ختم اور گرفتار کشمیری رہنمائوں کو رہا کیا جائے ، فلسطین میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے حوالے سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کروائے اور اسرائیل کے جنگی جرائم کا منصفانہ تحقیقات کرے اور اس کو قانونی کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ شرکاء نے نے ہاتھ اٹھا کر قرار دادوں کے حق میں فیصلہ دیا ۔بعد ازں سابق صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔








