اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے سوڈان کے شہر کدوگلی میں ڈرون حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں سات بچے بھی شامل ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے مطابق سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ تازہ …
سوڈان کے شہر کدوگلی میں ڈرون حملوں پر اقوامِ متحدہ کا اظہار تشویش

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے سوڈان کے شہر کدوگلی میں ڈرون حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں سات بچے بھی شامل ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے مطابق سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ تازہ حملہ منگل کے روز جنوبی کردفان ریاست کے دارالحکومت کدوگلی کے ایک رہائشی علاقے میں ہوا، جو شام تک جاری رہا۔
اوچا نے کہا کہ طبی ذرائع کے مطابق ایک ہیلتھ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے وقت مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا تھا۔اوسی ایچ اے کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ محاصرے، گولہ باری اور شدید قلت کے باعث کدوگلی کے نصف سے زائد طبی مراکز پہلے ہی غیر فعال ہو چکے ہیں۔ رواں ہفتے شہر میں شہری علاقوں اور طبی سہولیات پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے مزید شہری ہلاکتیں ہوئیں اور صحت کا نظام، جو پہلے ہی نازک حالت میں ہے، بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ادارے نے زور دیا کہ شہریوں، طبی مراکز اور انسانی امدادی کارکنوں کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کے لیے محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔اوچا نے بتایا کہ کدوگلی میں قحط جیسی صورتحال کی نشاندہی ہو چکی ہے، خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شہر تک امدادی سامان کی اہم رسد گاہیں بدستور بند ہیں۔
اوسی ایچ اے کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سوڈان کے لیے انسانی امور کی رابطہ کار ڈینیز براؤن نے رواں ہفتے کے آغاز میں شمالی ریاست کے شہر اد دبہ میں واقع الافاد کیمپ میں بے گھر خاندانوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے سوڈان میں ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے باعث تشدد، خوف اور نقصانات کی دردناک کہانیاں سنیں۔اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں نے تشدد کے فوری خاتمے اور جان بچانے والی امداد کو وسعت دینے کے لیے اضافی فنڈز کی اپیل کی ہے۔








