اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کرے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں …
پاکستان کا اقوامِ متحدہ سےغیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔5فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کرے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔
سلامتی کونسل میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بی ایل اے، فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک ماجد بریگیڈ جیسے گروہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے باعث دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ قرارداد 1267 کے تحت بی ایل اے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست کو فوری طور پر منظور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی پر قائم ہے۔سفیر عاصم احمد نے زور دیا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے موجودہ خطرات کا مقابلہ اجتماعی، جامع اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کرنا ہوگا، جس میں اقوامِ متحدہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی پر متوازن عمل درآمد شامل ہو۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سرگرم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ پاکستان میں سنگین دہشت گرد حملے کر رہے ہیں، جنہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی مبینہ معاونت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق افغان عبوری حکام دہشت گرد گروہوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، جبکہ القاعدہ، داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی جیسے عناصر بھی افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ ان گروہوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے جدید ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں 48 معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
جوابی کارروائی میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 145 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور بھاری معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوں نے بیرونی عناصر کی جوابدہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی مالی و عسکری معاونت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی دہشت گردی، خصوصاً مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جبر، کو انسدادِ دہشت گردی کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ عالمی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں میں اب تک ایک ہی مذہب کے پیروکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ سفید فام بالادستی، انتہا پسند قوم پرستی، اسلاموفوبیا اور دیگر ابھرتی ہوئی دہشت گرد نظریات کو بھی یکساں طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹر ی جنرل برائے انسدادِ دہشت گردی الیگزینڈر زویوف نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ داعش اور اس سے منسلک تنظیمیں مسلسل دباؤ کے باوجود مختلف خطوںخاص طور پر افریقہ، عراق، شام اور افغانستان میں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور ڈرونز دہشت گردی کے لیے تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔








