پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حامی، بھارت کی ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اور پختہ حمایت کا اعادہ کرتا ہے، بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً …

اسلام آباد۔5فروری (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اور پختہ حمایت کا اعادہ کرتا ہے، بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

جمعرات کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بھارتی قبضے کے تحت کشمیری عوام آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں تاہم ان کی ثابت قدمی اور استقامت ان کے منصفافہ موقف کی صداقت کی گواہی دیتی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ تنازعہ جموں و کشمیر کی بنیاد بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی ہے جن کے تحت کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا حق دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال محض وقتی خلاف ورزیوں سے آگے بڑھ کر ایک منظم اور مسلسل جبر کے نظام کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد بھارت نے قانونی تحفظات کو ختم کیا ، مقامی اداروں کو کمزور کیا اور متنازعہ خطے پر مستقل قبضے کو مستحکم کرنے کےلئے اقدامات کئے جن میں آبادیاتی ساخت کی مصنوعی تبدیلی کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ، میڈیا کو سرکاری بیانیے کی پابندی پر مجبور کرنا اور ہر قسم کی اختلاف رائے کو جرم بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندو توا پر مبنی نظام کے تحت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو مسلسل امتیازی سلوک کا سامنا ہے، حالیہ اقدامات جن کے تحت مساجد کی پروفائلنگ کی جارہی اور مذہبی پیشوائوں کو اپنی ذاتی معلومات ، تصاویر اور مسلکی وابستگیاں فراہم کرنے پر مجبور کیا جارہاہے ، ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کی سنگین مثال ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدگیاں ، من مانے حراستی اقدامات اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں بدستور جاری ہیں، حال ہی میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے تقریباً 2800 افراد کی من مانے طور پر حراست کی نشاندہی کی ہے جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات پر اسے جوابدہ ٹھہرانے، بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور کشمیری عوام کو ان کا وعدہ شدہ حق خود ارادیت دلانے کےلئے فیصلہ کن اقدامات کرے۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی سطح پر کھڑا رہے گا، ہماری تمام تر کوششیں تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن ، منصفانہ اور دیرپا حل کے حصول پر مرکوز رہیں گی۔