پشاور۔ 05 فروری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے …
پشاور، صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس، دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کیلئے جامع حکمت عملی پر اتفاق

مزید خبریں
پشاور۔ 05 فروری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کورکمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس کے علاوہ اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیااجلاس میں صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات، بالخصوص فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کیلئے جامع لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
فورم نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی کامیابی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، معززین اور وفاقی حکومت کے درمیان باہمی مشاورت، تعاون اور عملی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔اپیکس کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی، جس میں پاک فوج، پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں، اور اس مقصد کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گااجلاس میں طویل المدتی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت دہشت گردی کے تمام محرکات کی نشاندہی اور خاتمے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ حکومت اور عوام مل کر ملکی سلامتی اور ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مفاد پر مبنی اقدامات ہی دہشت گردی کے خلاف قوم کو متحد کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور ترقیاتی، سماجی و معاشی محرومیوں کے خاتمے کیلئے تمام حکومتی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔فورم کو بتایا گیا کہ ایک منظم پروگرام کے تحت متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی سہولیات اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کیلئے خصوصی پیکج متعارف کرایا جائے گا۔
اس کے علاوہ جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی، وہاں متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ان کی باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ امن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کیلئے سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں اور مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، “یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے اور اسے مشترکہ کاوشوں سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔








