سعودی عرب کا پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اونٹوں کے لیے پاسپورٹ کا اعلان،یہ شناختی و تنظیمی دستاویز کا کردار ادا کرے گا

ریاض ۔6فروری (اے پی پی):سعودی عرب نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اونٹوں کے لیے ’’ کیمل پاسپورٹ ‘‘کے اجرا کا اعلان کیا ہے جو ایک شناختی اور تنظیمی دستاویز کا کردار ادا کرے گا۔العربیہ کے مطابق وزارت ماحولیات، پانی و زراعت نے اونٹوں کی باقاعدہ شناخت کو یقینی بنانے کے لیےکیمل پاسپورٹ منصوبے کا اعلان کیا ہے،یہ ایک نیا ریگولیٹری اور ڈیجیٹل ٹول ہے جس کا مقصد اونٹوں کے …

ریاض ۔6فروری (اے پی پی):سعودی عرب نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اونٹوں کے لیے ’’ کیمل پاسپورٹ ‘‘کے اجرا کا اعلان کیا ہے جو ایک شناختی اور تنظیمی دستاویز کا کردار ادا کرے گا۔العربیہ کے مطابق وزارت ماحولیات، پانی و زراعت نے اونٹوں کی باقاعدہ شناخت کو یقینی بنانے کے لیےکیمل پاسپورٹ منصوبے کا اعلان کیا ہے،یہ ایک نیا ریگولیٹری اور ڈیجیٹل ٹول ہے جس کا مقصد اونٹوں کے شعبے کو منظم کرنا، ان کی ملکیت اور شناخت کو دستاویزی شکل دینا اور مارکیٹ کی ساکھ کو بڑھانا ہے۔

اس پراجیکٹ کا افتتاح سعودی عرب کے نائب وزیر برائے ماحولیات، پانی اور زراعت منصور المشیطی نے کیا۔وزارت کے مطابق کیمل پاسپورٹ ایک جامع شناحتی دستاویز کے طور پر کام کرتا ہے جس میں مائیکرو چپ نمبر، پاسپورٹ نمبر، اونٹ کا نام، تاریخ پیدائش، نسل، جنس، رنگ، جائے پیدائش، تاریخ اجرا اور مقام کے ساتھ جانور کی تصویر بھی ہے تاکہ شناخت کی درست تصدیق کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ پراجیکٹ عمر، جنس، نسل اور رنگ کے لحاظ سے اونٹوں کی آبادی کے بارے میں درست اعداد وشمار کی فراہمی کے ذریعے سٹریٹجک پلاننگ کی معاونت کرے گا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ کیمل پاسپورٹ ایک سرکاری دستاویز ہوگی جس میں اونٹ کی تمام تفصیلات درج ہوں گی جن میں نسل، ویکیسی نیشن کی تفصیلات کے علاوہ مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی شامل ہوگا جس کی تصدیق ویٹرنری حکام کریں گے۔وزارت کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹ کے اجرا سے ان کی خرید و فروخت بھی منظم ہوگی جس سے اونٹ مالکان کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے۔سعودی عرب کے قومی ورثے میں 2.2 ملین اونٹ رجسٹرڈ ہیں جن کی سب سے زیادہ تعداد ریاض میں ہے،اس ریجن میں قومی ورثے میں رجسٹرڈ اونٹوں کی تعداد 65 لاکھ 64 ہزار سے زیادہ ہے۔واضح رہے اونٹ ہزاروں سال سے عرب کی ثقافتی، اقتصادی اور قومی علامت رہے ہیں،عرب خطے میں اونٹوں کے چرواہے اور اسے پالنے والے ثقافتی اور روایتی طور پر اپنا شجرہ نسب رکھتے ہیں۔

مزید خبریں