اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ بجٹ میں کٹوتیوں اور شدید مالی قلت کے باعث اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیاں، خصوصاً پولیس دستے، سخت دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث کئی مشنز کو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ سکیورٹی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرلجین پیئر لیکروکس …
اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیوں کو شدید مالی بحران کا سامنا

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ بجٹ میں کٹوتیوں اور شدید مالی قلت کے باعث اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیاں، خصوصاً پولیس دستے، سخت دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث کئی مشنز کو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ سکیورٹی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرلجین پیئر لیکروکس نے کہا کہ اگرچہ کارکردگی بہتر بنانا ضروری ہے، مگر یہ پائیدار اور قابلِ اعتماد مالی وسائل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ امن مشنز میں تعینات بین الاقوامی پولیس کو اس نازک وقت میں مزید سیاسی اور مالی تعاون کی ضرورت ہے۔پولیس امور کے مشیر فیصل شہکار نے خبردار کیا کہ کمزور عالمی تعاون، نازک جغرافیائی سیاست، منظم جرائم اور وسائل کی کمی نے امن مشنز کے لیے چیلنجز بڑھا دیے ہیں تاہم اس کے باوجود اقوامِ متحدہ کی پولیس شہریوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔
جنوبی سوڈان اور کانگو جیسے ممالک میں مالی کٹوتیوں کے باعث پولیس نفری تقریباً نصف رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں مشنز کو صرف انتہائی حساس علاقوں تک اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑ رہی ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ مؤثر پولیسنگ امن، شہری تحفظ اور پائیدار استحکام کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر امن کوششیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔








