اقوام متحدہ ۔7فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے مصر سے متصل غزہ کی رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے واپس آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ غزہ میں شہری آبادی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے ) کے مطابق غزہ کی شہری آبادی والے …
اقوام متحدہ کا رفح کراسنگ سے واپس آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی پراظہارِ تشویش

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔7فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے مصر سے متصل غزہ کی رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے واپس آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ غزہ میں شہری آبادی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے ) کے مطابق غزہ کی شہری آبادی والے علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے، فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں، جن کے نتیجے میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
او سی ایچ اے نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے جمعرات کے روز اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے (اونروا) کے جبالیہ پریپریٹری بوائز اسکول کو مسمار کر دیا، جو چھ اسکولوں کے احاطے میں آخری عمارت تھی، جس کے بعد پورا کمپلیکس تباہ ہو گیا ہے۔ادارے نے زور دیا کہ شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور انہیں کبھی بھی نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق جمعرات کے روز 21 فلسطینی واپس آنے والوں کو اسرائیلی چیک پوسٹ سے خان یونس کے ناصر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اوچا اور شراکت دار ادارے استقبالی مرکز چلا رہے ہیں۔
پیر سے اب تک واپس آنے والوں کی مجموعی تعداد 98 ہو چکی ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اور مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی حمایت یافتہ مسلح فلسطینی عناصر کی جانب سے واپس آنے والوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور تذلیل کا ایک واضح رجحان سامنے آ رہا ہے۔
او ایچ سی ایچ آر کے مطابق بعض مسلح افراد نے واپس آنے والوں کو ہتھکڑیاں لگا کر آنکھوں پر پٹیاں باندھیں، دھمکیاں دیں، تلاشی لی اور ذاتی سامان و رقم چھین لی، جبکہ اسرائیلی چیک پوسٹ پر تشدد، توہین آمیز تفتیش اور جسمانی تلاشیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ طرزِ عمل فلسطینیوں کے ذاتی تحفظ، انسانی وقار اور تشدد و ناروا سلوک سے آزادی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اوسی ایچ اے کے مطابق غزہ کے اندر انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے اب بھی اسرائیلی حکام سے پیشگی رابطہ ضروری ہے۔ جمعرات اور جمعے کو 11 امدادی مشنز کی کوشش کی گئی، جن میں سے صرف چھ مکمل طور پر ممکن ہو سکے، جبکہ دیگر کو شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔








