آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے ،وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کا عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب

لاہور۔7فروری (اے پی پی):"جمہوریت اور قانون کی حکمرانی" کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہفتہ کے روز آغاز ہو گیا، جس میں جج صاحبان، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بنیادی حقوق، جمہوریت، عدالتی آزادی اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف …

لاہور۔7فروری (اے پی پی):”جمہوریت اور قانون کی حکمرانی” کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہفتہ کے روز آغاز ہو گیا، جس میں جج صاحبان، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بنیادی حقوق، جمہوریت، عدالتی آزادی اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا آغاز اس ضرورت کے تحت کیا گیا کہ ایک آئینی عدالت قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض مواقع پر سپریم کورٹ دائرہ اختیار سے باہر بھی گئی جبکہ نظرثانی میں بعض سزائے موت کے فیصلے غلط بھی ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف حلقوں سے مشاورت کی گئی اور ساتھیوں کو اعتماد میں لے کر اس معاملے پر سوال جواب ہوئے۔ ا نہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت آئینی بینچز قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا جبکہ ماضی میں 19ویں آئینی ترمیم پر بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے تبادلوں کے معاملے میں صدر مملکت، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کی جائے گی اور ججز کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اور اسلام آباد میں اچھے ججز موجود ہیں تو اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگوں کا بھی مساوی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور اس کے نتائج وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ا نہوں نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ضروری ہے اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود لاپتہ افراد سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہیں اور اس معاملے پر ذاتی طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حساس مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے اور جوڈیشل کمیشن اپنا کام ذمہ داری سے سر انجام دے رہا ہے۔وفاقی وزیرِ قانون نے کہا ہے کہ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہمیں ایک تحفے کے طور پر ویسٹ سے ملی، یہ دراصل کسی اور کی جنگ تھی جو ہم پر مسلط کی گئی۔ دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف اتنی طویل جنگ نہیں لڑی جتنی پاکستان نے لڑی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ حکومت گھریلو تشدد کے خلاف بھی قانون سازی کر رہی ہے، جبکہ اسلام آباد کی حد تک اس قانون کو نافذ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق معاملات پر بھی کام جاری ہے اور متعلقہ قانون سازی و اقدامات زیرِ غور ہیں۔قبل ازیں انہوں نے خطاب کے آغاز میں شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی معاشرے میں امن اور ترقی کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کے جبر یا زبردستی کی اجازت نہیں دیتا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھیئل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری مساوی حقوق کے حامل ہیں جبکہ اسلام میں بھی غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی شدت پسندی کے خوف سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ہم سب کو مل کر مکالمے (ڈائیلاگ) کے ذریعے ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب میں بھی کم عمر بچیوں کی شادی کی اجازت نہیں، بارہ سال کی بچی کی شادی ہمارے مذہب میں بھی ممنوع ہے۔ کھیئل داس کوہستانی نے زور دیا کہ قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، تاہم پاکستان نے جواب دیتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور واضح پیغام دیا کہ کسی بھی مذہب یا عبادت گاہ، خصوصا مندروں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آبادی اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ واپس بھیجا گیا۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ نگران حکومت نے 2023 میں افغان مہاجرین کے لیے واضح ٹائم لائن مرتب کی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک کی سیکیورٹی کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا۔۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت نے 2023 میں افغان مہاجرین پالیسی میں تبدیلی کی، کیونکہ اس معاملے میں سیکیورٹی سمیت دیگر اہم پہلووں کو دیکھنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے افغان شہریوں کو ماضی میں بغیر کسی کاغذی کارروائی کے یہاں بسایا گیا۔لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شہرام سرور نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی وراثت پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور عدالتی آزادی کی جدوجہد کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر و انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر مرحومہ نے ہمیشہ محروم اور کمزور طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور اس بات پر یقین رکھا کہ قانون کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ جبر۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری زاہد اعوان نے کہا کہ وکلا برادری ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑی رہے گی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد نے کہا کہ ملک میں بارہا مارشل لا کو برداشت کیا گیا، جبکہ منتخب حکومتوں کو مزاحمت کا سامنا رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان آرمی نے خود کو ایک مضبوط قوت ثابت کیا۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے کہا عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ بنیادی انسانی حقوق کی جد وجہد کی ،وکلا عاصمہ جہانگیر کو بار کی ماں کہتے تھے اور وہ انکار نہیں کرتی تھیں ،عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ بار کی آزادی کی بات کی ،موجودہ آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہیں۔

سابق چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے وکلا نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے کوششیں کیں ،وکلا نے مشرف اور ایوب کے غیر قانونی اقدام کے خلاف بھی جہدوجہد کی ،جس نے بھی آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی وکلا اس غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کی ،بار ایسوسی ایشن نے کبھی سیاسی جماعتوں کو استعمال نہیں کیا ۔سیکرٹری سپریم کورٹ بار زاہد اعوان نے کہا عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے جہدوجہد کی ،پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کا سامنا ہے ،سپریم کورٹ بار کا یقین ہے سیاسی ایشوز کا حل ڈائیلاگ سمجھتی ہے ،بات چیت کے پراسیس سے سیاسی استحکام آسکتا ہے۔

صدر لاہور ہائیکورٹ بار ملک آصف نسوانہ نے کہا لاہور ہائیکورٹ بار سانحہ اسلام آباد کی مذمت کرتی ہے،اسلام آباد سانحہ میں 31 شہادتیں ہوئیں، سانحہ اسلام آباد دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے، ہماری ہمدردیاں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئے، شہدا کے خاندانوں کو تحفظ اور مالی مدد فراہم کی جائے، پوری قوم کے حوصلے بلند ہیں دہشتگردوں کو کوئی معافی نہیں،وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے کہا اعلی عدلیہ کے بارے میں فیصلے نہ کرنے کا تاثر درست نہیں ،اعلی عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں ،وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی بہت ضرورت تھی ،

آئینی عدالت کے قیام سے عام سائل کے مسائل کم ہورہے ہیں ،اعتراضات اپنی جگہ چاہے کچھ بھی ہوں عام سائل کے مسائل سے سب آگاہ ہیں ،آئین میں ترامیم اور قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے ،عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے ہیں،کانفرنس کے دوران خوشحال خٹک نے بتایا کہ 2025 میں 11 لاکھ 50 ہزار افغان شہریوں کو پاکستان سے واپس افغانستان بھیجا گیا بے۔ کانفرنس سے ترجمان کے پی کے حکومت شفیع جان ،جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے بھی خطاب کیا ۔دو روزہ کانفرنس میں آئینی بالادستی، انسانی حقوق، جمہوری تسلسل اور عالمی قانونی چیلنجز پر مباحثے جاری رہے۔

 

مزید خبریں