سوڈان: ریپڈ سپورٹ فورسز کی بے گھر افراد کی بس پر فائرنگ،بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق

خرطوم۔8فروری (اے پی پی):سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی بے گھر افراد کی بس پر فائرنگ سے 24 افراد جاں بحق ہو گئے۔العربیہ کے مطابق سوڈانی ڈاکٹروں کے نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ کردفان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) کی جانب سے بے گھر افراد کی بس کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 24 افراد جاں بحق ہوگئےم، مرنے والوں میں 8 بچے بھی شامل …

خرطوم۔8فروری (اے پی پی):سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی بے گھر افراد کی بس پر فائرنگ سے 24 افراد جاں بحق ہو گئے۔العربیہ کے مطابق سوڈانی ڈاکٹروں کے نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ کردفان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) کی جانب سے بے گھر افراد کی بس کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 24 افراد جاں بحق ہوگئےم، مرنے والوں میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔ ملک میں جاری جنگ کی نگرانی کرنے والے نیٹ ورک نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ شمالی کردفان ریاست کے شہر الرھد کے قریب ہوا۔

نیٹ ورک نے مزید کہا کہ گاڑی میں وہ بے گھر افراد سوار تھے جو شمالی کردفان ریاست کے علاقے دبیکر میں لڑائی سے بھاگ رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں دو شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ نیٹ ورک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات والے علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرے۔اس سے قبل سوڈانی وزارت خارجہ نے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ٹرکوں پر ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی۔ یہ وہ ٹرک تھےجو شمالی کردفان ریاست میں شہریوں کو امداد پہنچا رہے تھے۔

ان حملوں سے ہلاکتوں کے ساتھ امدادی سامان بھی تباہ ہوگیا۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ ان قافلوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون، خاص طور پر جنیوا کنونشنز کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ ضرورت مندوں تک انسانی امداد پہنچانے کی کوششوں کو جان بوجھ کر اور مسلسل سبوتاژ کرنا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ریپڈ سپورٹ فورسز اور ان کے حامیوں کے محاسبے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان میں21 ملین سے زیادہ لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور 11 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگ ایسے دیہاتوں یا گنجان پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں جہاں بنیادی ضروریات کی کمی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔