اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے لیےنئے قوانین کی منظوری دے دی ، فلسطینی اتھارٹی کی مذمت

مقبوضہ بیت المقدس۔9فروری (اے پی پی):اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے لیےنئے قوانین کی منظوری دے دی ہے جبکہ فلسطینی حکام نے اس قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ الجزیرہ نے اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے حوالہ سے بتایا کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط بنانے …

مقبوضہ بیت المقدس۔9فروری (اے پی پی):اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے لیےنئے قوانین کی منظوری دے دی ہے جبکہ فلسطینی حکام نے اس قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ الجزیرہ نے اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے حوالہ سے بتایا کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے نئے قوانین کی منظوری دی ہے۔

فلسطینی ایوان صدر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو خطرناک اور آبادی کی توسیع کو قانونی حیثیت دینے کی کھلی اسرائیلی کوشش اور اراضی کی ضبطی قرار دیا۔ صدر محمود عباس کے دفتر نے امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔اردن کی وزارت خارجہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی، جس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصدغیر قانونی اسرائیلی خودمختاری اور بستیوں کو مسلط کرنا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ان قوانین سے اسرائیلی آباد کاروں کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور اسرائیلی حکام کو علاقے میں فلسطینیوں پر قوانین نافذ کرنے کے لیے مضبوط اختیارات ملیں گے۔

مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی غزہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے کے ساتھ مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے کوشاں ہیں۔ مغربی کنارے کا زیادہ تر حصہ براہ راست اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، کچھ علاقوں میں فلسطینیوں کی خود مختاری انتہائی محدود ہے، جن پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہے۔اسرائیلی خبر رساں اداروں Ynet اور Haaretz کے مطابق نئے اقدامات میں ایسے قوانین کو ہٹانا شامل ہے جو نجی یہودی افراد کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنے سے روکتے تھے۔ ان اقدامات میں اسرائیلی حکام کو کچھ مذہبی مقامات کے انتظام کی ذمہ داری لینے کی اجازت دینا اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نگرانی اور نفاذ کو بڑھانا بھی شامل ہے۔

اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے رہنما اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنے کے اقدامات جاری رکھیں گے ۔فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں الحاق کو بڑھانے اور زمینی سطح پر نئے حقائق پیدا کرنے کے متوقع اسرائیلی اقدامات کے بارے میں رپورٹس تمام دستخط شدہ اور پابند معاہدوں کی سراسر خلاف ورزی ہے ، یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور سنگین کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان یکطرفہ اقدامات کا مقصد تنازعہ کے کسی بھی سیاسی امکان کو ختم کرنا، دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کرنا اور پورے خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف لے جانا ہے۔