سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس، بیرون ملک روزگار، سکلز ٹریننگ اور او پی ایف امور پر تفصیلی غور

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس پیر کو یہاں سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز ناصر محمود، بلال احمد خان ، شہادت اعوان اور جان محمد نے شرکت کی۔ سینیٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملازمت اور ہجرت کے حوالے سے پہلے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے …

اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس پیر کو یہاں سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز ناصر محمود، بلال احمد خان ، شہادت اعوان اور جان محمد نے شرکت کی۔

سینیٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملازمت اور ہجرت کے حوالے سے پہلے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے بارے میں بریفنگ کے دوران حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین کے تمام ممالک میں سٹاف کی مہارت کے سرٹیفکیٹ قبول کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سافٹ سکلز سرٹیفکیٹ پانچ روزہ جسمانی اور آن لائن ٹریننگ پروگرام کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ اس وقت 480,000 رجسٹرڈ لوگ اس پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور مفت سافٹ سکلز سرٹیفکیٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اس پروگرام پر مجموعی طور پر تیس لاکھ روپے کی انتظامی لاگت آئی ہے۔حکام نے مزید کہا کہ 453,000 طلباء کو تکنیکی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور سافٹ سکلز کی تربیت میں طریقہ کار پر بات چیت اور میزبان ملک کے قوانین کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔

کمیٹی نے پروگرام کو سراہا اور مزید وضاحت کے لیے سی ای او، نیوٹیک کو اگلی میٹنگ کے لیے طلب کیا۔ او پی ایف حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ او پی ایف کی ذمہ داری کسی شخص کے بیرون ملک جانے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اوورسیز کمیٹی کے اجلاس کے دوران بسنت کا ذکر بھی ہوا۔حکام نےاجلاس کو بتایا کہ بیرون ملک یا پاکستان میں انتقال کرنے والوں کی رقم متعلقہ ملک سے اکٹھی کر کے ان کے قانونی ورثاء کے حوالے کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال 750,000 لوگ کام کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور 1971ء سے اب تک تقریباً 12 ملین لوگ بیرون ملک جا چکے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ اگر کسی شہری کو دو یا تین بار پروٹیکٹوریٹ جاری کیا جاتا ہے تو ان افراد کو بھی ڈیٹا میں شامل کیا جاتا ہے۔

او پی ایف حکام نے کہا کہ ان کا ڈیٹا ایف آئی اے کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے تاہم ایف آئی اے او پی ایف کو بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا فراہم نہیں کرتا۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

کمیٹی کے رکن ناصر محمود نے سوال کیا کہ بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کا ڈیٹا کون رکھتا ہے جس پر حکام نے جواب دیا کہ ڈیٹا سفارتخانوں کے پاس موجود ہے۔ سینیٹر شہادت اعوان نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے عدالتوں کے قیام کے حوالے سے سوال کیا۔

اس کا جواب دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت ماتحت عدالتوں کی سطح پر عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔سینیٹر شہادت اعوان نے سوال کیا کہ کتنے مقدمات زیر التواء ہیں یا فیصلے ہوئے؟ حکام نے کہا کہ وہ پنجاب کے کیسز کی تفصیلات طلب کر کے کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔

حکام نے تصدیق کی کہ اسلام آباد اور پنجاب میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان میں بیماری کی صورت میں مفت علاج کرائیں گے اور سکیورٹی سروسز، ہوٹلوں اور لیبارٹریز پر 50 فیصد تک رعایت دی جاتی ہے۔

حکام نے مزید بتایا کہ ہر سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کنونشن پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کوئی ہائوسنگ سوسائٹیز نہیں ہیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ہائوسنگ سکیمیں ابھی تک زیر التواء ہیں۔ حکام نے بتایا کہ قبضہ شدہ اراضی واپس حاصل کر لی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال میں او پی ایف کے نقصانات میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ سندھ میں پی ٹی سی ایل کی زمین دستیاب ہے اور مستقبل میں اس پر مشترکہ ہائوسنگ سکیم بنائی جا سکتی ہے۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سکول پارک کے رہائشی منصوبوں سمیت دیگر تمام منصوبوں پر بریفنگ طلب کی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام بریفنگ پیش کی جائے۔

حکام نے امیگریشن کے مختلف مسائل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں زرمبادلہ 42.5 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات، عمان اور ملائیشیا کی جانب سے غیر اعلانیہ پابندیاں ویزے میں مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔

ای او بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمد امین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ای او بی آئی کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976ء میں قائم کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی اس وقت کم از کم پنشن 11,500 اور زیادہ سے زیادہ پنشن 32 ہزار روپے فراہم کر رہا ہے جو قابل بیمہ ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کی عمر پر منحصر ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 31 جولائی 2025ء تک ای او بی آئی کا کل سرمایہ کاری پورٹ فولیو 643.59 ارب روپے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی  کی رئیل اسٹیٹ، سرکاری سکیورٹیز اور ایکویٹی میں سرمایہ کاری ہے اور عمارتوں اور جائیدادوں میں بہت سی سرمایہ کاری بہت پہلے کی گئی تھی۔ سرمایہ کاری کے فیصلے بورڈ آف ٹرسٹیز کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ای او بی آئی  میں 432,000 نئے افراد کا اضافہ کیا گیا جبکہ 48,000 نئے پنشنرز رجسٹرڈ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح 2024-25 میں ای او بی آئی کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔گزشتہ سال 2024-25 میں ای او بی آئی کی کل آمدن 159.66 ارب روپے تھی جو  2023-24 کے127.79 ارب روپے کے مقابلے میں 24.93 ارب روپے زیادہ رہی۔