اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے میں 33 افراد شہید ہوئے اور 150 زخمی ہوئے،زخمیوں کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے کر ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں،امام بارگاہ میں پولیس کے دو اہلکار تعینات تھے تاہم خودکش حملہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اسے روک نہیں سکے۔ پیر کو قومی اسمبلی …
ترلائی خودکش حملہ میں 33 افرادشہید، 150 زخمی ہوئے،دہشت گرد نے افغانستان میں تربیت حاصل کی، پشت پر بھارت کا ہاتھ، طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے میں 33 افراد شہید ہوئے اور 150 زخمی ہوئے،زخمیوں کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے کر ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں،امام بارگاہ میں پولیس کے دو اہلکار تعینات تھے تاہم خودکش حملہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اسے روک نہیں سکے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترلائی میں امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے آغاز میں نمازی سجدے کی حالت میں تھے،ایسے میں ایک دہشت گرد نے گارڈز پر فائرنگ کر دی جس سے گارڈ زخمی ہوگئے اور خود کش حملہ آور مسجد میں داخل ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ عموماً مساجد میں نمازی صحن اور باہر بھی نماز ادا کرتے ہیں تاہم یہاں چاردیواری اور گیٹ لگا تھا، یہ دہشت گرد وہاں داخل ہوا اور آخری صف میں آ کر خود کو اڑادیا۔
سانحہ کے فوری بعد زخمیوں کو سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں لایا گیا۔اس سانحہ میں 33 نمازی شہید ہوئے۔ان میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔یہاں ارد گرد بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے ہیں، ان کے طلبہ یہاں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ کے بعد فوری طور پر اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،دھماکے کے زخمیوں کی تعداد 150 سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی کے کزن اس حملے میں شہید جبکہ ان کے چچا زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کیا اور دو سے تین گھنٹوں کے اندر خودکش بمبار کی شناخت کرلی گئی۔
خودکش بمبار کی شناخت یاسر ولد بہادر خان کے نام سے ہوئی، یہ پشاور کا رہائشی تھا۔ اس کے فوری بعد اس کے ایک عزیز کو اسلام آباد اور دوسرے کو اڈیالہ روڈ سے گرفتار کیا گیا۔ان سے تحقیقات کے دوران مزید کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گرد نوشہرہ سے پکڑے گئے۔ایک دہشت گرد مارا گیا اور کے پی پولیس کے ایک اے ایس آئی نے جام شہادت نوش کیا۔مارا گیا دہشت گرد بھی خودکش حملہ آور تھا اور ایک خودکش حملہ آور زندہ پکڑا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور دہشت گرد نے تربیت افغانستان میں لی۔اس کے ہینڈلر اور سہولت کاروں کا بھی افغانستان آنا جانا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممکنہ اقدامات کی وجہ سے دہشت گردی کی کئی کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی تمام مساجد میں نماز کے اوقات میں پولیس کے جوان تعینات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اداروں کواب تک جو ثبوت ملے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد نے تمام تربیت افغانستان میں لی اور اس کے پیچھے انڈیا ہے،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔دنیا نے اس کی مذمت کی ہے،دنیا نے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی بھی مذمت کی ہے۔








