چنیوٹ کوپاکستان کا تعلیمی آکسفورڈ بنانے کا عزم ہے، تعلیم ہی غربت سے نجات اور معاشی ترقی کا واحد راستہ ہے، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

فیصل آباد/چنیوٹ ۔ 09 فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چنیوٹ کا علاقہ گزشتہ 33 برس سے ان کے پاس ہے اور وہ ابتدا ہی سے یہ عزم رکھتے آئے ہیں کہ چنیوٹ کو پاکستان کا تعلیمی آکسفورڈ بنایا جائے، اقوام اور معاشروں کی ترقی کا واحد راستہ معیاری تعلیم ہے جس کے ذریعے نہ صرف غربت کا خاتمہ ممکن …

فیصل آباد/چنیوٹ ۔ 09 فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چنیوٹ کا علاقہ گزشتہ 33 برس سے ان کے پاس ہے اور وہ ابتدا ہی سے یہ عزم رکھتے آئے ہیں کہ چنیوٹ کو پاکستان کا تعلیمی آکسفورڈ بنایا جائے، اقوام اور معاشروں کی ترقی کا واحد راستہ معیاری تعلیم ہے جس کے ذریعے نہ صرف غربت کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ پائیدار معاشی ترقی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد چنیوٹ کیمپس میں گرلز ہاسٹل اور سپورٹس کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ برآمدات اس وقت تقریباً 32 ارب ڈالر ہیں جبکہ چین کی برآمدات 5 ہزار ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں ، چین نے یہ مقام صرف تعلیم میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے تعلیم کے بل بوتے پر 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا جبکہ پاکستان میں آج بھی اڑھائی کروڑ افراد تعلیم سے باہر ہیں جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ قیصر احمد شیخ نے ماضی کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ ادوار میں امیروں کو اربوں روپے کے قرضے دئیے گئے جس کے نتیجے میں ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے مسلسل 35 برس تک 10 فیصد شرح نمو حاصل کی جبکہ ہم آج بھی 7 سے 8 فیصد شرح نمو تک مستقل طور پر نہیں پہنچ سکے جس کی بڑی وجہ تعلیم اور انسانی وسائل پر توجہ کا فقدان ہے۔وفاقی وزیر نے فاسٹ یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاسٹ یونیورسٹی ابتدا میں صرف لاہور میں تھی، تاہم انہوں نے مسلسل کوششوں، دن رات مطالبات اور ارباب اختیار سے رابطوں کے ذریعے چنیوٹ میں اس کا کیمپس قائم کروایا۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کو زمین مفت فراہم کی گئی اور ابتدا میں لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ جنگل نما علاقے میں یہ ادارہ کیسے کامیاب ہوگا مگر آج فاسٹ یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس ایک کامیاب تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور 2012 میں فاسٹ یونیورسٹی کے قیام کے بعد علاقے میں تعلیمی ماحول میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چنیوٹ کے وہ تمام طلبہ و طالبات جو میرٹ پر فاسٹ یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہوں، ان کی فیس وہ ذاتی طور پر ادا کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ کوئی بھی غریب طالب علم تعلیم سے محروم نہ رہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو لوگوں کو غربت کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔وفاقی وزیر نے طلبہ و طالبات کو نظم و ضبط، محنت اورواضح مقصد کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوانوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ طلبہ کے لیے دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 33 برس سے ان کا فون نمبر ایک ہی ہے اور کوئی بھی شخص بالخصوص طلبہ کسی بھی وقت ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔اس موقع پر وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر راؤف اعظم نے کہا کہ چنیوٹ کیمپس کو مزید بہتر بنانا اور تعلیم کے معیار کو بہترین سطح تک لے جانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کیمپس میں اس وقت تقریباً دو ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں نصف سے زائد طالبات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ شخصیت سازی کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیمپس ایک ایسا تعلیمی ایکو سسٹم تشکیل دے رہا ہے جو آگے چل کر مختلف اداروں اور صنعتوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔

دریں اثنا چنیوٹ کے ایک دیہی علاقے کوٹ میانہ میں منعقدہ میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ اس کیمپ میں مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ادویات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں جبکہ تشویشناک حالت کے مریضوں کو مفت ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں مستند اور ماہر ڈاکٹرز اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ دیہی آبادی کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔