اسلام آباد۔ 14 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر مالک مکان اپنے اختیارات باقاعدہ اتھارٹی لیٹر یا اسپیشل پاور آف اٹارنی کے ذریعے کسی مجاز نمائندے کو منتقل کر دے تو وہ نمائندہ بھی ذاتی ضرورت کی بنیاد پر کرایہ دار کے خلاف بے دخلی کی کارروائی کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر دائر سول پٹیشن خارج …
اختیارات منتقل ہونے پر نمائندہ بھی بے دخلی کی درخواست دائر کر سکتا ہے، سپریم کورٹ نے کرایہ دار کی اپیل مسترد کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 14 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر مالک مکان اپنے اختیارات باقاعدہ اتھارٹی لیٹر یا اسپیشل پاور آف اٹارنی کے ذریعے کسی مجاز نمائندے کو منتقل کر دے تو وہ نمائندہ بھی ذاتی ضرورت کی بنیاد پر کرایہ دار کے خلاف بے دخلی کی کارروائی کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ عدالت نے اسی اصول کی بنیاد پر دائر سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھیں، نے 11 نومبر 2025 کو فیصلہ سنایا۔
تحریری فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔عدالت کے روبرو مقدمہ محمد ضیافت کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس میں 23 جولائی 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جو پشاور ہائی کورٹ نے آئینی درخواست نمبر 848-A/2020 میں سنایا تھا۔تفصیلات کے مطابق طارق نواز خان ترین (مدعا علیہ نمبر 1) نے اپنے وکیلِ مختار کے ذریعے مغربی پاکستان شہری کرایہ داری پابندی آرڈیننس 1959 کے سیکشن 13 کے تحت ہری پور میں واقع اولڈ بس اسٹینڈ جی ٹی روڈ پر دکان نمبر 1 کے کرایہ دار کے خلاف ذاتی ضرورت کی بنیاد پر بے دخلی کی درخواست دائر کی تھی۔رینٹ کنٹرولر نے شواہد قلمبند کرنے کے بعد 19 فروری 2020 کو بے دخلی کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج/ماڈل سول اپیلیٹ کورٹ ہری پور نے 8 جولائی 2020 کو اپیل منظور کرتے ہوئے کرایہ دار کو بے دخل کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ شواہد کو درست طور پر نہ پڑھنے اور قانونی نکات پر غور نہ کرنے پر مبنی ہے۔ مزید یہ کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 10 کا اطلاق ہوتا تھا کیونکہ فریقین کے درمیان اسی موضوع پر ایک اور مقدمہ زیر التوا تھا۔ یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ فیصلے کی تاریخ کے حوالے سے عدالتی کارروائی میں تضاد موجود ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آرڈیننس کی دفعہ 2 کے تحت "مالک مکان” کی تعریف میں وہ شخص بھی شامل ہے جو کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہو، خواہ وہ اپنے نام پر یا کسی دوسرے کی جانب سے ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مالک نے باقاعدہ اتھارٹی لیٹر اور اسپیشل پاور آف اٹارنی کے ذریعے اپنے اختیارات کسی شخص کو منتقل کر دیے ہوں تو وہ شخص بھی قانوناً مالک کے طور پر کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ذاتی ضرورت کے معاملے میں مالک کا بیان اگر درخواست سے ہم آہنگ ہو اور جرح میں کمزور نہ پڑے تو وہ کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے متعدد نظائر کا حوالہ بھی دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ لے کر ہم آہنگ (concurrent) نتائج اخذ کیے ہیں، جن میں کسی واضح غیر قانونی عمل، شواہد کے غلط مطالعے یا قانونی سقم کی نشاندہی نہیں کی جا سکی۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ آئینی دائرہ اختیار میں ہائی کورٹ حقائق کے متفقہ نتائج میں مداخلت نہیں کرتی جب تک کوئی سنگین قانونی یا دائرہ اختیار کی غلطی ثابت نہ ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کسی ایسے قانونی جواز کی نشاندہی نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر ہم آہنگ فیصلوں میں مداخلت کی جا سکے، لہٰذا سول پٹیشن خارج کی جاتی ہے اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔







