اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):موسمیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ہنگامی عالمی بحران ہے جو بنیادی طور پر انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیول جلانے کا نتیجہ ہے جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور خشک سالی، سیلاب اور سطح سمندر میں اضافے جیسی قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ تبدیلی ماحولیاتی نظام، غذائی تحفظ اور انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی …
موسمیاتی تبدیلی کے باعث دو ملک مٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں، موسمیاتی ماہر کا انتباہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):موسمیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ہنگامی عالمی بحران ہے جو بنیادی طور پر انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیول جلانے کا نتیجہ ہے جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور خشک سالی، سیلاب اور سطح سمندر میں اضافے جیسی قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ تبدیلی ماحولیاتی نظام، غذائی تحفظ اور انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور ان کے ذرائع معاش کو براہ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔
العربیہ کے مطابق خبر رساں ایجنسی ’’ تاس ‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ "نیچر اینڈ پیپل” فاؤنڈیشن سے وابستہ روسی موسمیاتی ماہر الیکسی کوکورین نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سمندری موسمیاتی تبدیلیوں کے "ناقابلِ واپسی مقام” سے گزر جانے کے بعد کیریباتی اور مالدیپ کے مٹ جانے کا خطرہ ہے۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اخبار "دی گارڈین” نے TERA اور پوٹسڈیم انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ زمین کی آب و ہوا "ناقابلِ واپسی مقام” کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے جس کے بعد بے قابو گلوبل وارمنگ کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
کوکورین نے مزید کہا کہ جب لوگ ناقابل واپسی مقام کی بات کرتے ہیں تو ان کے مختلف معنی ہو سکتے ہیں، کیریباتی کے لیے یہ مقام پہلے ہی گزر چکا ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ ملک لازمی طور پر زیرِ آب آ جائے گا کیونکہ یہ ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں سطح سمندر تیزی سے بلند ہو رہی ہے لہذا اب صرف یہ سوال باقی ہے کہ یہ کب ہوگا؟۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک مٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید مالدیپ کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے۔
موسمیاتی ماہر کے مطابق بین الاقوامی برادری کی کوششیں اس وقت گلوبل وارمنگ کو روکنے پر مرکوز ہیں تاکہ اس سے پیدا ہونے والے خطرناک موسمی مظاہر کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اصل خطرہ صرف اوسط درجہ حرارت میں اضافے میں نہیں بلکہ شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافے میں ہے لہذا مقصد آب و ہوا کو اس سطح پر مستحکم کرنا ہے جس کے ساتھ زیادہ تر ممالک کسی حد تک مطابقت پیدا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مختصر بات یہ ہے کہ درجہ حرارت میں 19ویں صدی کے مقابلے میں تقریباً 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی بات ہو رہی ہے، کوئی بھی 19ویں یا 20ویں صدی کی آب و ہوا کی طرف واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ یہ آپشن سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اس لیے مجموعی طور پر زمین کے لیے ’’ ناقابلِ واپسی مقام ‘‘ کی بات کرنا شاید پوری طرح درست نہ ہو کیونکہ واپسی کا کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے، یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔








