وفاقی حکومت کا گندم خریداری حکمتِ عملی کا جائزہ، تمام صوبوں میں وافر ذخائر کی یقین دہانی،وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں ملک بھر میں گندم کی خریداری کے انتظامات، دستیاب ذخائر اور قیمتوں کے استحکام سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ، اجلاس کو آئندہ فصل کی کٹائی کے سیزن سے …

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں ملک بھر میں گندم کی خریداری کے انتظامات، دستیاب ذخائر اور قیمتوں کے استحکام سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ، اجلاس کو آئندہ فصل کی کٹائی کے سیزن سے قبل خریداری کی تیاریوں، ذخائر کی صورتحال اور رسد کے انتظام سے متعلق حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے دوران کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نئی فصل کی آمد تک قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے تمام صوبوں میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں گندم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں اور منڈیوں میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس کے دوران صوبوں نے اپنی اپنی خریداری حکمتِ عملی سے متعلق تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ حکومت خیبر پختونخوا نے کارکردگی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے گندم خریداری کا ہائبرڈ ماڈل اختیار کیا ہے جس میں 75 فیصد سرکاری اور 25 فیصد نجی شعبے کی شمولیت شامل ہے۔حکومت سندھ نے کمیٹی کو بتایا کہ گندم کی خریداری سرکاری شعبے کے ذریعے کی جائے گی تاکہ رسد کے استحکام اور قیمتوں کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی علامتی خریداری قیمت 40 کلوگرام کے لیے 3,500 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خریداری آپریشنز کے ہموار نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زور دیا کہ موجودہ خریداری فریم ورک ایک سال تک نافذ العمل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 2026 تا 2030 کے عرصے کے لیے ایک جامع طویل المدتی گندم پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد جدید اصلاحات کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پالیسی میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام، سپلائی چین کی مؤثر نگرانی، شفافیت میں اضافہ اور قیمتوں کے پائیدار استحکام پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ممکن ہو سکے گی۔

اجلاس میں ماہِ مقدس رمضان کے دوران صارفین کے تحفظ پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں کی سخت نگرانی یقینی بنائی جائے اور آٹے کی قیمتوں میں کسی بھی غیر ضروری اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر انتظامی اقدامات کیے جائیں۔غذائی تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط کوششیں جاری رہیں گی تاکہ گندم کی مستحکم دستیابی یقینی بنائی جا سکے، کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہو اور ملک بھر کے صارفین کے لیے مناسب قیمتیں برقرار رکھی جا سکیں۔