افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکے، وزارت اطلاعات

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور پھر دوبارہ بنوں میں ہی رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات …

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور پھر دوبارہ بنوں میں ہی رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی۔

پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دینے کی کوششوں کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے واضح اقدامات کرے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ اور غیر ملکی پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔

اس سب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے جوابی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے ایف اے کے اور اس سے وابستہ تنظیموں اور آئی ایس کے پی کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو پاک افغان سرحدی علاقے میں انتہائی درستگی کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے کہ وہ دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔