بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، ماہرین

ملتان۔ 22 فروری (اے پی پی):ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے شدید اور ہمہ گیر آبی انتظامی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مغربی دریاؤں کے بڑے پیمانے پر پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے اس کے پاس مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں۔بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر مقرب اکبر نے اے پی پی …

ملتان۔ 22 فروری (اے پی پی):ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے شدید اور ہمہ گیر آبی انتظامی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مغربی دریاؤں کے بڑے پیمانے پر پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے اس کے پاس مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں۔بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر مقرب اکبر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ بہاؤ کے موسم میں مغربی دریاؤں سے آنے والے اربوں مکعب میٹر پانی کو روکنا بھارت کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس نہ تو بڑے ذخائر کی گنجائش ہے اور نہ ہی ایسا وسیع نہری نظام موجود ہے جو اتنی بڑی مقدار میں پانی کا رخ موڑ سکے۔انہوں نے جنوبی ایشیا نیٹ ورک آن ڈیمز سے وابستہ ایک علاقائی آبی ماہر کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے بیشتر ہائیڈرو پاور منصوبے “رن آف دی ریور” نوعیت کے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے کی نہ تو ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی گنجائش۔

بی زیڈ یو کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیدہ نواز نے کہا کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک قانونی طور پر پابند دستاویز ہے، اور اس کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متاثرہ فریق کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری آسان نہیں اور پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھا سکتا ہے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر رفیدہ نواز کے مطابق اپنے آبی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور پانی کے بہاؤ کو محدود کرنے کی کسی بھی کوشش سے سنگین قانونی سوالات جنم لیں گے۔فشریز سائنسدان اور ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو معاہدے پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے اور ممکنہ آبی تنازعات یا علاقائی کشیدگی سے بچنے کے لیے مؤثر قانونی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے پاس اپنے حقوق کے دفاع اور بھارت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرنے کے لیے متعدد قانونی آپشنز موجود ہیں۔