لاہور۔22فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ قابلِ کاشت رقبے کو گنے اور دالوں کی کاشت کے تحت لا کر غذائی اجناس کی درآمد پر خرچ ہونے والا سالانہ 8 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ اتوار کو یہاں ساہیوال سے چوہدری محمد آصف آرائیں کی قیادت میں آئے ترقی …
زرعی رقبہ بڑھا کر سالانہ8 ارب ڈالر کے غذائی درآمدی اخراجات بچائے جا سکتے ہیں،شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔22فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ قابلِ کاشت رقبے کو گنے اور دالوں کی کاشت کے تحت لا کر غذائی اجناس کی درآمد پر خرچ ہونے والا سالانہ 8 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔
اتوار کو یہاں ساہیوال سے چوہدری محمد آصف آرائیں کی قیادت میں آئے ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ منڈی کی طلب کے مطابق طویل مدتی زرعی منصوبہ بندی مرتب کریں تاکہ خوراک کے شعبے کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ مقامی کاشت کو فروغ دینے سے نہ صرف زرمبادلہ محفوظ ہوگا بلکہ دیہی روزگار میں اضافہ، زرعی بنیادوں پر قائم صنعتوں کا استحکام اور پاکستان کی معاشی مضبوطی و خود کفالت میں بھی مثبت کردار ادا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ زرخیز زمین اور موافق موسمی حالات ہونے کے باوجود ملک غذائی درآمدات پر بھاری انحصار کر رہا ہے جس سے قومی ذخائر پر غیر ضروری دبائو پڑتا ہے۔ شاہد عمران نے کہا کہ مسور، چنا اور لوبیا جیسی دالوں کی کاشت میں اضافہ درآمدی انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کو بھی مضبوط بنائے گا۔
اسی طرح جدید زرعی طریقوں اور بہتر بیجوں کے ذریعے گنے کی پیداوار بڑھا کر مقامی چینی کی پیداوار میں اضافہ اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ شاہد عمران نے زور دیا کہ حکومت کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات، معیاری زرعی لوازمات تک رسائی، موثر آبپاشی نظام اور آگاہی پروگرام فراہم کرے تاکہ فصلوں میں تنوع کو فروغ دیا جا سکے۔








