اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):اردو کے معروف شاعر اطہر نفیس کی سالگرہ اتوار 22 فروری کو منائی گئی۔ ان کی شاعری کو پاکستان کے ممتاز گلوکاروں نے گایا اور اطہر نفیس کو اردو شاعری کا شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔ وہ 22 فروری 1933 کو ضلع آگرہ میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام کنور اطہر علی خاں تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی سکول علی گڑھ سے …
اردو کے معروف شاعر اطہر نفیس کی سالگرہ منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):اردو کے معروف شاعر اطہر نفیس کی سالگرہ اتوار 22 فروری کو منائی گئی۔ ان کی شاعری کو پاکستان کے ممتاز گلوکاروں نے گایا اور اطہر نفیس کو اردو شاعری کا شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔ وہ 22 فروری 1933 کو ضلع آگرہ میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام کنور اطہر علی خاں تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی سکول علی گڑھ سے حاصل کی۔اطہر نفیس 1949میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی میں سکو نت اختیار کی۔
1953 میں وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے۔ اطہر نفیس نے غزل گوئی کو اپنے اظہار سخن کا ذریعہ بنایا اور اسے ایک نیا رخ عطا کیا۔ وہ میر کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے غزل کو ایک دھیما اور نرم لہجہ عطا کیا جو ان کی پہچان بن گیا ، ان کی شاعری حقیقی زندگی کی آئینہ دار ہے۔
طہر نفیس کا پہلا شعری مجموعہ کلام کے عنوان سے احمد ندیم قاسمی نے 1975 میں لاہور سے شائع کیا جبکہ دوسرا مجموعۂ کلام وہ صورت گر کچھ خوابوں کے ابھی تشنۂ طباعت ہے۔اطہر نفیس 21 نومبر 1980کو کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کی لوح مزار پر انہیکا شعر تحریر کیا گیا ہے ’’وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا۔۔۔کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا‘‘۔اطہر نفیس کو سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔








