لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے مالی سال 2026-27 کے لیے فرنیچر سیکٹر سے متعلق جامع بجٹ تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ سفارشات بروقت وفاقی حکومت کو پیش کی جائیں گی۔اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی رہنمائوں، برآمد کنندگان، مینوفیکچررز، ہنرمندوں …
فرنیچر انڈسٹری کے فروغ کیلئے بجٹ تجاویز طلب، پالیسی معاونت ناگزیر ہے، میاں کاشف

مزید خبریں
لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے مالی سال 2026-27 کے لیے فرنیچر سیکٹر سے متعلق جامع بجٹ تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ سفارشات بروقت وفاقی حکومت کو پیش کی جائیں گی۔اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی رہنمائوں، برآمد کنندگان، مینوفیکچررز، ہنرمندوں اور متعلقہ شعبوں سے بامقصد مشاورت نہایت ضروری ہے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق قابلِ عمل اور موثر تجاویز مرتب کی جا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ موصول ہونے والی تمام قابلِ عمل سفارشات کو یکجا کر کے ایک جامع دستاویز کی صورت میں متعلقہ حکام کو ارسال کیا جائے گا تاکہ فرنیچر انڈسٹری کی آواز اعلی پالیسی سازی کی سطح تک موثر انداز میں پہنچ سکے۔ انہوں نے جدت اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تجاویز پیش کی جائیں جو تکنیکی اپ گریڈیشن، ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں اور خصوصی فرنیچر پارکس کے قیام کی راہ ہموار کریں۔
میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ فرنیچر انڈسٹری میں برآمدات بڑھانے، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے لیے حکومتی سطح پر موثر پالیسی معاونت اور مالی مراعات ناگزیر ہیں۔انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ پیداواری لاگت میں کمی، ٹیکسوں کے ڈھانچے کو معقول بنانے، خام مال کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے اور سستے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے حوالے سے ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز پیش کریں تاکہ صنعت کو درپیش مسائل کا دیرپا حل ممکن ہو سکے۔








