لاہور۔22فروری (اے پی پی):سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان و معروف ماہر قانون شیخ انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مختلف آبی منصوبوں پر یکطرفہ پیش رفت، پانی کے بہائو میں رکاوٹیں اور ضروری ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم نہ کرنا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اتوار کو یہاں اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیخ انوارالحق نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان و …
بھارت کی آبی منصوبوں پر پیشرفت و پانی بہائو میں رکاوٹیں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے،شیخ انوارالحق

مزید خبریں
لاہور۔22فروری (اے پی پی):سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان و معروف ماہر قانون شیخ انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مختلف آبی منصوبوں پر یکطرفہ پیش رفت، پانی کے بہائو میں رکاوٹیں اور ضروری ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم نہ کرنا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
اتوار کو یہاں اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیخ انوارالحق نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان و بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق ایک تاریخی اور قانونی طور پر مضبوط معاہدہ ہے جس میں ڈیٹا شیئرنگ، شفافیت اور باہمی اعتماد کے بنیادی اصول شامل ہیں تاہم بھارت کی جانب سے ان اصولوں پر عمل نہ ہونا پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی پاکستان میں سیلابی یا خشک سالی کے خطرات بڑھا سکتی ہے کیونکہ اس سے پیشگی انتباہی نظام، ڈیم مینجمنٹ اور زرعی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل نفاذ پر یقین رکھتا اور عالمی قوانین کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی چارہ جوئی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی عدالت میں متنازع بھارتی آبی منصوبوں پر مضبوط موقف اختیار کیا اور عالمی برادری کو بھارت کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور عالمی مالیاتی اداروں،اقوام متحدہ اور دوست ممالک کو بھارت کی آبی جارحیت سے آگاہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ قانونی اور تکنیکی ماہرین کی ٹیم کو مزید مضبوط کرے تاکہ عالمی فورمز پر موثر انداز میں اپنا کیس پیش کیا جا سکے۔ ایک اور سوال پرانہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات پاکستان کے توانائی استحکام اور غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ پاکستان کی زراعت بڑی حد تک دریائی پانی پر انحصار کرتی ہے اور پانی کی فراہمی میں کمی سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پن بجلی منصوبے بھی پانی کے قدرتی بہائو پر منحصر ہیں لہذا پانی کی کمی توانائی بحران کو بھی شدید بنا سکتی ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کے لیے دبائو ڈالے اور ڈیٹا کی شفاف فراہمی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ پانی ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے ،اسے سیاسی دبائو یا جارحیت کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔








