اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، دانشور اور انگریزی زبان و ادب کے استاد پروفیسر ایمریطس جیلانی کامران کی برسی اتوار 22 فروری کو منائی گئی۔ جیلانی کامران 24 اگست 1926کو پونچھ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے اور 1957ء میں ایڈنبرگ یونیورسٹی سے ایم اے (آنرز) کی ڈگری حاصل کی۔جیلانی کامران 1957میں گورنمنٹ کالج لاہور سے …
ممتاز شاعر پروفیسر ایمریطس جیلانی کامران کی برسی منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، دانشور اور انگریزی زبان و ادب کے استاد پروفیسر ایمریطس جیلانی کامران کی برسی اتوار 22 فروری کو منائی گئی۔ جیلانی کامران 24 اگست 1926کو پونچھ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے اور 1957ء میں ایڈنبرگ یونیورسٹی سے ایم اے (آنرز) کی ڈگری حاصل کی۔جیلانی کامران 1957میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بطور انگریزی استاد وابستہ ہوئے اور 1971 سے 1973تک وائس پرنسپل کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔
وہ 1973سے 1975 کے دوران گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں پرنسپل کے عہدے پر فائض رہے جبکہ 1979سے 1989 تک ایف سی کالج لاہور میں شعبۂ انگریزی کے صدر اور پھر 1999 میں پروفیسر ایمریطس مقرر ہوئے۔
پروفیسر جیلانی کامران کے شعری مجموعوں میں استانزے، نقش کف پا، چھوٹی بڑی نظمیں اور نظمیں، دستاویز اور جیلانی کامران کی نظمیں اور نثری کتب میں تنقید کا نیا پس منظر، نئی نظم کے تقاضے، غالب کی تنقیدی شخصیت، نظریہ پاکستان کا ادبی و فکری مطالعہ، اقبال اور ہمارا عہد، لاہورکی گواہی، قائد اعظم اور آزادی کی تحریک، ہمارا ادبی و فکری سفر، امیر خسرو کا صوفیانہ مسلک اور ادب کے مخفی اشارے سمیت دیگر کتب شامل ہیں۔
پروفیسر جیلانی کامران کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ،تمغہ امتیاز اور قائد اعظم میڈل سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ پروفیسر جیلانی کامران 22 فروری 2003 کو لاہور میں وفات پاگئے اور اقبال ٹاؤن لاہور ، نشتر بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے پروفیسر جیلانی کامران کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔








