اسلام آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 76 سالہ بزرگ مجرم محمد ممتاز کی دوہرے قتل کی سزا کو موت سے عمر قید میں بدل دیا ۔ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ غیر منصوبہ بند جھگڑے کا نتیجہ تھا اور انصاف کے تقاضے عمر قید کی سزا سے پورے ہوتے ہیں۔ باقی تمام سزائیں اور جرمانے برقرار رہیں گے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ …
سپریم کورٹ نے بزرگ مجرم کی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے 76 سالہ بزرگ مجرم محمد ممتاز کی دوہرے قتل کی سزا کو موت سے عمر قید میں بدل دیا ۔ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ غیر منصوبہ بند جھگڑے کا نتیجہ تھا اور انصاف کے تقاضے عمر قید کی سزا سے پورے ہوتے ہیں۔ باقی تمام سزائیں اور جرمانے برقرار رہیں گے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 348/2024 کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات اور میڈیکل شواہد مکمل طور پر مستند اور ہم آہنگ ہیں تاہم مجرم کی بڑھتی عمر کو رحم دلی کا عنصر سمجھتے ہوئے موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا ہے
۔9 مارچ 2015 کی صبح تقریباً 7:30 بجے، دیرہ سودھی مڑی میں شاکی محمد رمضان، ان کے بھائی قادر یار اور والدہ خاتون بی بی مویشی لے جا رہے تھے۔ اسی دوران محمد ممتاز کی اہلیہ مریم بی بی نے وہاں آ کر جھگڑا شروع کر دیا۔محمد ممتاز نے 12 بور رائفل سے خاتون بی بی اور بتول بی بی کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔قادر یار کو دو رانوں اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں گولی لگی لیکن وہ بچ گئے۔واقعے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات قابل اعتماد، درست اور باہمی ہم آہنگ ہیں۔ میڈیکل رپورٹ بھی ان کے بیانات کی تصدیق کرتی ہے۔ وقوعہ کا پس منظر غیر منصوبہ بند جھگڑا تھااور مجرم کی عمر تقریباً 76 سال ہے، جس کو عدالت نے رحم دلی کی بنیاد قرار دیا۔قتل کی دوہری سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔باقی تمام سزاؤں اور جرمانے برقرار ہیں۔
سزائیں ایک ساتھ (concurrent) چلیں گی اور قانونی مراعات دی جائیں گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اقدام انصاف اور انسانی ہمدردی دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ قانون اور اخلاقی تقاضے دونوں پورے ہوں۔








