ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):مالی سال 26-2025 کے سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی فعال حکمتِ عملی اور حکومت کی سرمایہ دوست پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کاروباری عمل میں آسانیوں، پالیسی تسلسل اور مؤثر ادارہ جاتی رابطوں نے …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):مالی سال 26-2025 کے سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی فعال حکمتِ عملی اور حکومت کی سرمایہ دوست پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کاروباری عمل میں آسانیوں، پالیسی تسلسل اور مؤثر ادارہ جاتی رابطوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنا دیا ہے۔

ایس آ ئی ایف سی حکام کے مطابق سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال26-2025 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ رواں مالی سال کے اسی عرصے میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق توانائی کے شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں نے 400.19 ملین ڈالر جبکہ مالیاتی شعبے میں 371.33 ملین ڈالر منافع کی مد میں بیرونِ ملک منتقل کیے۔

ماہرین کے مطابق منافع کی بروقت اور شفاف ترسیل سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہوتی ہے اور یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول مستحکم اور قابلِ اعتماد ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ کو 442.76 ملین ڈالر اور چین کو 413.11 ملین ڈالر کی صورت میں کی گئی، جو دونوں ممالک کی پاکستان میں نمایاں سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، پالیسیوں کا تسلسل اور کاروباری اصلاحات نے بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مربوط سہولت کاری، ون ونڈو آپریشن اور ادارہ جاتی ہم آہنگی نے سرمایہ کاری کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا ہے۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد نہ صرف معاشی استحکام کی علامت ہے بلکہ یہ مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی روشن بناتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔