لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین و سابق جج ہائیکورٹ محمد رمضان چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدوں کے قانون کے تحت یہ ایک باقاعدہ دستخط شدہ اور نافذ العمل معاہدہ ہے، جس میں ترمیم یا خاتمہ صرف دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کوئی بھی غیرقانونی یا …
سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں منصفانہ پانی کی تقسیم اور پرامن تنازعات کے حل کیلئے ایک تاریخی قانونی معاہدہ ہے، محمد رمضان چوہدری

مزید خبریں
لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین و سابق جج ہائیکورٹ محمد رمضان چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدوں کے قانون کے تحت یہ ایک باقاعدہ دستخط شدہ اور نافذ العمل معاہدہ ہے، جس میں ترمیم یا خاتمہ صرف دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کوئی بھی غیرقانونی یا اشتعال انگیز اقدام خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے ۔
اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سینئر ماہر قانون دان رمضان چوہدری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں منصفانہ پانی کی تقسیم اور پرامن تنازعات کے حل کی ایک تاریخی قانونی معاہدہ ہے، جو 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد برصغیر کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے آبی تنازعات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ معاہدے کے تحت تین مشرقی دریائوں کے حقوق بھارت کو جبکہ تین مغربی دریائوں کے پانی کے حقوق پاکستان کو دئیے گئے، تاکہ دونوں ممالک اپنی زرعی اور معاشی ضروریات منظم انداز میں پوری کر سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانونی طور پر اس معاہدے کو کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ بین الاقوامی معاہدوں کے قانون کے تحت یہ ایک باقاعدہ دستخط شدہ اور نافذ العمل معاہدہ ہے، جس میں ترمیم یا خاتمہ صرف دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ معاہدے میں تنازعات کے حل کا تدریجی طریقہ کار بھی موجود ہے، جس کے تحت معاملات کو کمیشن، غیر جانبدار ماہر یا بین الاقوامی ثالثی فورم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ سینئر قانون دان رمضان چوہدری نے کہا کہ معاہدے کی قانونی حیثیت مضبوط ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور ریاستی ذمہ داری کے اصولوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
بطور ضامن ادارہ، ورلڈ بینک کو تنازعات کے حل کے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے کے احترام کو یقینی بنائے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کی حوصلہ شکنی کرے، کیونکہ پانی صرف دوطرفہ معاملہ نہیں بلکہ علاقائی امن اور انسانی استحکام سے جڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اس سے زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، توانائی منصوبوں اور ماحولیاتی توازن پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، جبکہ عوامی بے چینی اور سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نشاندہی کی کہ چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کوئی بھی غیرقانونی یا اشتعال انگیز اقدام خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر کاربند ہے اور سمجھتا ہے کہ معاہدوں کا احترام ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔








