رکن قومی سمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس پیر کو رکن قومی سمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عالیہ کامران کی طرف سے پیش کئے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کی گئی۔ کمیٹی اراکین نے پاکستان کے برآمدی فریم ورک میں موجود ساختی خامیوں کے بارے میں بحث کی۔ کمیٹی اراکین نے ملکی پیداوار کو …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس پیر کو رکن قومی سمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں عالیہ کامران کی طرف سے پیش کئے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کی گئی۔ کمیٹی اراکین نے پاکستان کے برآمدی فریم ورک میں موجود ساختی خامیوں کے بارے میں بحث کی۔ کمیٹی اراکین نے ملکی پیداوار کو درپیش چیلنجز، درآمدات پر انحصار، کاروباری لاگت، ٹیکس پالیسیوں، صوبائی سیس، توانائی اور زرمبادلہ کو درپیش مسائل پر بحث کی۔ چیئرمین نے علاقائی تجارت، سلامتی اور اقتصادی حکمت عملیوں کے بارے میں باخبر فیصلہ سازی کو یقینی بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی، بین وزارتی رابطہ کاری، دفاع، خارجہ امور اور سٹیٹ بینک کی ان کیمرہ بریفنگ کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت دو بڑے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جن میں ایکسپو سینٹر کوئٹہ اور ایس ایم ایز کے لئے ایکسپورٹ ایکسلریٹر شامل ہیں ۔

اراکین نے لاگت میں اضافے، تاخیر، پراجیکٹ کی جگہ میں تبدیلی پر اراکین کی رائے لی۔ ایس ایم ایز کے لئے ایکسپورٹ ایکسلریٹر پر ممبران نے واضح نتائج، مالی عزم، اور بین وزارتی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے این آئی سی ایل کی کارکردگی اور بورڈ کی ساخت کا جائزہ لیا، گزشتہ تین سالوں کے نتائج ، مالی حیثیت، رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز میں اضافے کو سراہا جن میں 25 ارب روپے مالیت کے دبئی میں چھ یونٹس، سرمایہ کاری کی حدود، ایس او پیز ، پورٹ فولیو کے تنوع اور رسک کوریج پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں پاکستان کے قیمتی جواہرات اور زیورات کے شعبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں اراکین نے 450 ارب روپے کے تخمینہ شدہ ذخائر، سوات کے زمرد اور ٹیمر لائن کی برآمدات اور ہال مارکنگ کی کمی جیسے چیلنجز پر اظہار خیال کیا۔

اراکین نے ریگولیٹری باڈی، برآمدات کے فروغ کے مراکز، علاقائی اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کو اپنانے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں تاکہ جواہرات اور زیورات کی پائیداری اور علیحدہ انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیئرمین نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ پالیسیوں اور تجاویز کا جائزہ لے اور سفارشات پیش کرے۔ اراکین نے ترسیلات زر اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لئے وزارت تجارت اور سٹیٹ بینک کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور سٹیٹ بینک کے سینئر حکام آئندہ اجلاس میں ٹھوس حل پیش کریں۔اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی اسد عالم نیازی، کرن حیدر، گل اصغر خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، فرحان چشتی، خورشید احمد جونیجو، رمیش کمار اور امیر علی خان مگسی، وزارت تجارت، وزارت قانون و انصاف، فنانس ڈویژن، منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔