اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے روس۔یوکرین جنگ کےچار سال مکمل ہونے اور جنگ پانچویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر پاکستان نے جاری سفارتی کوششوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور فوری جنگ بندی کے ذریعے تنازع کے پُرامن اور مذاکراتی حل کی جانب پیش رفت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل …
روس۔یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل ، اقوام متحدہ میں پاکستان کا سفارت کاری اور فوری جنگ بندی پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔25فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے روس۔یوکرین جنگ کےچار سال مکمل ہونے اور جنگ پانچویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر پاکستان نے جاری سفارتی کوششوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور فوری جنگ بندی کے ذریعے تنازع کے پُرامن اور مذاکراتی حل کی جانب پیش رفت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنازع کے پہلے دن سے ہی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤقف پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔ منصفانہ اور دیرپا امن صرف بامعنی، منظم اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کا آغاز فوری جنگ بندی سے ہونا چاہیے
سلامتی کونسل کا 15 رکنی اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا جب حالیہ مہینوں میں یوکرین کے شہری انفراسٹرکچر پر روسی حملوں میں شدت آئی ہے۔ کونسل اس سے قبل جنگ کے 3 سال مکمل ہونے پر قرارداد 2774 (2025) منظور کر چکی ہے، تاہم 2025 شہریوں کے لیے ایک نہایت جان لیوا سال ثابت ہوا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ کسی بھی مذاکراتی تصفیے کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں سے وابستگی، تمام فریقوں کے سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی طور پر قابلِ قبول حل کی تلاش اور خطے میں پائیدار استحکام کی ضمانت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الزام تراشی سے گریز بھی ناگزیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جس میں شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو غیر متناسب نقصان پہنچا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادوں کو متزلزل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات نہ صرف تنازع کو طول دیتے ہیں بلکہ اعتماد کو مجروح کرتے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ لاکھوں انسانوں کی اذیت کا خاتمہ محض سیاسی ہدف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہو ں نے کہاکہ پاکستان پُرامن حل کو فروغ دینے والی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔قبل ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب محمد کامران تاج نے کہا کہ اس مہلک جنگ کے اثرات یوکرین سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں، جس سے عالمی معیشت، سپلائی چین اور خوراک و توانائی کے تحفظ کو شدید دھچکا پہنچا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوئے۔








