اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزارت خزانہ میں ڈائریکٹر ٹیکس پالیسی اکنامک اینا لسٹ ڈاکٹر محمود خالد نے ریسرچ اور پالیسی سازی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں مؤثر پالیسی سازی کے لیے تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے۔بدھ کو پاکستان گورننس فورم 2026 کے موقع پر اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریسرچ کا بنیادی مقصد ماضی سے …
موجودہ دور میں مؤثر پالیسی سازی کے لیے تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے،ڈائریکٹر ٹیکس پالیسی اکنامک اینا لسٹ ڈاکٹر محمود خالد

مزید خبریں
اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزارت خزانہ میں ڈائریکٹر ٹیکس پالیسی اکنامک اینا لسٹ ڈاکٹر محمود خالد نے ریسرچ اور پالیسی سازی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں مؤثر پالیسی سازی کے لیے تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے۔بدھ کو پاکستان گورننس فورم 2026 کے موقع پر اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریسرچ کا بنیادی مقصد ماضی سے سیکھ کر مستقبل کے لیے درست لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مطلب صرف ڈیٹا جمع کرنا نہیں بلکہ دستیاب تجربات کو دستاویزی شکل دینا، عالمی بہترین طریقہ کار کا جائزہ لینا اور مستقبل کے اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی ترتیب دینا ہے۔
اگر تحقیق کے بغیر پالیسی بنائی جائے تو نہ صرف مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوتے بلکہ ریاستی وسائل اور وقت بھی ضائع ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر محمود خالد نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی بیشتر تحقیقی سرگرمیاں پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ جامعات میں ہونے والی تحقیق اکثر پالیسی اورینٹڈ نہیں ہوتی جس کے باعث اکیڈمیا اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ آزاد تھنک ٹینکس، جیسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائڈ)، پالیسی تحقیق میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ان کی رسائی محدود ہے جبکہ قومی سطح پر ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جامعات اپنے مقامی معاشی اور سماجی مسائل پر تحقیق کریں تو یہ نہ صرف پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگی بلکہ شفافیت اور مؤثر گورننس کے فروغ میں بھی مددگار ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک اپنے گروتھ ڈرائیورز کی درست نشاندہی کرے۔ اس کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ کون سے شعبے روزگار پیدا کر سکتے ہیں، ٹیکنالوجی میں جدت لا سکتے ہیں اور پائیدار ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
یہ تمام امور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ریسرچ کی ساکھ کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ اس میں دو پہلو ہوتے ہیں: داخلی اور خارجی ویلیڈیٹی۔ داخلی ویلیڈیٹی سے مراد تحقیق کی تکنیکی درستگی ہے، جبکہ خارجی ویلیڈیٹی کا مطلب یہ ہے کہ آیا تحقیق عملی طور پر قابلِ قبول اور قابلِ استعمال ہے یا نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں اکثر تحقیق تکنیکی طور پر درست ہوتی ہے، مگر وہ پالیسی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتی۔انہوں نے زور دیا کہ تحقیق کو براہِ راست پالیسی سوالات سے جوڑا جائے تاکہ ریاستی وسائل کا بہتر استعمال ہو اور قومی اہداف کے حصول میں حقیقی پیش رفت ممکن ہو سکے۔








