اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزراء اور پارلیمانی قیادت نے موثر گورننس، بااختیار بلدیاتی نظام، جامع ڈیجیٹل پالیسی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ جمعرات کو دو روزہ پاکستان گورننس فورم 2026 منعقد ہوا ۔ترقیاتی اعداد و شمار کی جامع ڈائریکٹری کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ حلقہ …
وفاقی وزراء اور پارلیمانی قیادت کاموثر گورننس، بااختیار بلدیاتی نظام، جامع ڈیجیٹل پالیسی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانےپر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزراء اور پارلیمانی قیادت نے موثر گورننس، بااختیار بلدیاتی نظام، جامع ڈیجیٹل پالیسی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ جمعرات کو دو روزہ پاکستان گورننس فورم 2026 منعقد ہوا ۔ترقیاتی اعداد و شمار کی جامع ڈائریکٹری کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاکہ حلقہ جاتی سطح پر ترقیاتی اشاریوں پر مشتمل ایک جامع ڈائریکٹری شائع کی جائے گی جس میں مختلف سماجی و معاشی اشاریوں کی تفصیلی معلومات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ وزارت کی جانب سے اس منصوبے پر بیشتر کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام عوامی نمائندوں کے درمیان مثبت مسابقت کو فروغ دے گا اور ترقیاتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔انہوں نے موثر طرز حکمرانی کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط مقامی حکومتیں ہی پائیدار گورننس کی بنیاد ہوتی ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جامع اور شمولیتی عالمی ڈیجیٹل نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ثمرات چند افراد تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی عالمی ڈیجیٹل قواعد و ضوابط کی تشکیل میں موثر آواز ملنی چاہیے۔انہوں نے ڈیٹا کے تحفظ، ڈیجیٹل حقوق اور ذمہ دارانہ جدت کے حوالے سے پارلیمان کی قانون سازی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک گورننس میں بہتری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور مضبوط ادارے ہی مستحکم نظام حکمرانی کی ضمانت ہوتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور فعال پارلیمان پائیدار طرز حکمرانی اور جمہوری استحکام کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان 24 کروڑ عوام کی امنگوں اور حکومتی اقدامات کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے قانون سازی کی نگرانی، شفافیت اور احتساب کو موثر حکمرانی کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ کٹ موشنز، توجہ دلائو نوٹس، وقفہ سوالات اور قراردادیں احتساب کے اہم پارلیمانی ذرائع ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سینیٹ میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ قانون سازی اور نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک عملی نوعیت کے اے آئی ایجنٹس تعینات نہیں کیے گئے تاہم آئندہ برسوں میں ان کے ظہور کی توقع ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہونی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب موسمیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان، سنگاپور اور چین جیسے ممالک اس شعبے میں پیش رفت کر رہے ہیں جبکہ پاکستان بھی اپنی استعداد کار بڑھا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی سازی کا مرکز غریب اور کمزور طبقات ہونے چاہئیں تاکہ تکنیکی تبدیلی سماجی و معاشی ناہمواریوں میں اضافہ نہ کرے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کو نمایاں کیا ہے جبکہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالنے کے باوجود گلیشیئر پگھلنے
بے ترتیب بارشوں اور شدید موسمی واقعات جیسے خطرات سے دوچار ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بہتر منصوبہ بندی، ابتدائی انتباہی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے قدرتی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور پائیدار و منصفانہ ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔








