اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ذمہ داران کو بری کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کی 19ویں برسی کے حوالے سے میڈیا کے سوال کے جواب میں دفتر خارجہ ترجمان طاہر اندرابی نے کہاکہ 18 فروری 2007 کو بھارت کی سرزمین پر …
حکومت پاکستان کی سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ذمہ داران کو بری کئے جانے کی شدید مذمت ، واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ذمہ داران کو بری کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کی 19ویں برسی کے حوالے سے میڈیا کے سوال کے جواب میں دفتر خارجہ ترجمان طاہر اندرابی نے کہاکہ 18 فروری 2007 کو بھارت کی سرزمین پر لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کو 19 سال مکمل ہو گئے ہیں، اس حملے میں 68 بے گناہ مسافر جاں بحق ہوئے جن میں 44 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے اہلِخانہ کی حالتِ زار کے حوالے سے بے حسی اور لاپرواہی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، جو 19برس گزرنے کے باوجود انصاف کے منتظر ہیں، یہ بے حس رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین پر بے گناہ شہریوں سمیت پاکستانیوں اور دیگر کے خلاف کئے گئے اس گھناؤنے دہشت گرد حملے میں سرکاری اور سیاسی سطح پر معاون اور شریک رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان چاروں ملزمان سوامی اسیمانند (جنہوں نے خود کو اس گھناؤنے حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا عوامی طور پر اعتراف کیا تھا)، لیفٹیننٹ کرنل پروہت (جو بھارتی فوج کے حاضر سروس افسر تھے) اور سادھوی پراگیا سنگھ ٹھاکر، کو شرمناک طور پر بری اور بے گناہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ ہندوتوا انتہا پسندی اور "زعفرانی دہشت گردی” جس نے 19 برس قبل اس غیر انسانی حملے کو جنم دیا تھا، موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس مقدمے کا منصفانہ ٹرائل کیا جائے اور سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے ذمہ داران اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، ہندوتوا سے متاثر انتہا پسندوں کے ہاتھوں بے رحمی سے قتل کئے گئے بے گناہ پاکستانی شہریوں کے اہلِخانہ انصاف کے حق دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت معمول کے مطابق پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے جس میں دہشت گردی کے بیانیے کا غلط استعمال بھی شامل ہے، اس پس منظر میں سمجھوتہ دہشت گرد حملے کے ذمہ داران کو منظم انداز میں بری کرنا بھارت کے دوہرے معیار اور پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی ایک اور مثال ہے۔








