سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ کی سرکار کو سزائیں معاف کرنے کے اختیار کو غیر شرعی قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے سرکار کو سزائیں معاف کرنے کے اختیار کو غیر شرعی قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر شریعت اپیلیٹ بنچ نے کی۔بنچ میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود …

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے سرکار کو سزائیں معاف کرنے کے اختیار کو غیر شرعی قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیئے ہیں۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر شریعت اپیلیٹ بنچ نے کی۔بنچ میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر قبلہ ایاز شامل ہیں۔

سماعت کے دوران عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود نے ریمارکس دیئے کہ اسلام میں سزائیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو قرآن میں مقرر ہیں اور دوسری تعزیر کے زمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعزیر میں سزا کا تعین قاضی حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ایک شخص کیسے درخواست دے کر سرکار سے کہہ سکتا ہے کہ سزا ختم کر دیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر عدالتوں کو ہی ختم کر دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو خود فریقِ مقدمہ ہو وہ کیسے سزا ختم کر سکتا ہے، ایسے میں تو پورا معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کے گھر چوری ہوتی ہے تو وہ ازالے کے لیے ریاست کے پاس جائے گا، لیکن بعد میں پتا چلے کہ ریاست نے تو کیس ہی واپس لے لیا ہے، تو متاثرہ شخص انصاف کے لیے کہاں جائے گا؟جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی حکومت یا سرکار اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے کیسے سزا ختم کر سکتی ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اس کیس میں رحم کی اپیل کے خصوصی اختیار پر نہیں بلکہ تعزیر کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قتل کے مقدمے میں راضی نامہ ہو سکتا ہے لیکن ڈکیتی جیسے جرم میں راضی نامہ نہیں ہو سکتا۔جسٹس شاہد وحید نے وکلا کو ہدایت کی کہ اس کیس کو ہلکا نہ لیا جائے اور مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ سن 1989 کے کیسز ہیں اور کوشش ہوگی کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ رائے طلب نہیں کر رہی تاہم اگر عدالت کونسل کی رائے سے اتفاق نہ کرے تو یہ مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔

عدالت نے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کی روشنی میں اپنی تیاری مکمل کریں۔کیس کی سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی جبکہ تمام صوبوں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیئے گئے۔واضح رہے کہ سید اسلام الدین نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 401، 402 اور کرمنل لاء ترمیمی ایکٹ 1958 کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں فیصلہ دیتے ہوئے متعلقہ شقوں کو غیر شرعی قرار دیا تھاجس کے خلاف وفاقی حکومت نے اسی سال سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید خبریں