اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):مریضوں کے تحفظ اور پیشہ وارانہ احتساب کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹیشنرز (آر ایم ڈی پیز)اور تسلیم شدہ اداروں کے لئے جامع نظرِ ثانی شدہ ضابطہ اخلاق (کوڈ آف ایتھکس) کی باقاعدہ منظوری اور نفاذ کر دیا ہے۔ دو سالہ تفصیلی جائزے کے بعد کونسل کی توثیق …
پی ایم ڈی سی کی جانب سے اخلاقیات اور مریضوں کے تحفظ کے لئے تاریخی اصلاحات کا نفاذ
اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):مریضوں کے تحفظ اور پیشہ وارانہ احتساب کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹیشنرز (آر ایم ڈی پیز)اور تسلیم شدہ اداروں کے لئے جامع نظرِ ثانی شدہ ضابطہ اخلاق (کوڈ آف ایتھکس) کی باقاعدہ منظوری اور نفاذ کر دیا ہے۔ دو سالہ تفصیلی جائزے کے بعد کونسل کی توثیق سے منظور ہونے والی یہ نظرِ ثانی شدہ دستاویز طبی شعبے میں اخلاقی نظم و نسق کے استحکام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت میں ضابطہ اخلاق کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا تاکہ عصری طبی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا سکے، ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جا سکے اور قومی معیارات کو بدلتے ہوئے قانونی و پیشہ وارانہ فریم ورک سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اخلاقی اصولوں کی پابندی محفوظ اور معیاری صحت کی فراہمی کی بنیاد اور طبی پیشے پر عوامی اعتماد کا ستون ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ نظرِ ثانی شدہ ضابطہ اخلاق میں مریضوں کی حفاظت، وقار، رازداری اور باخبر رضامندی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ کلینیکل پریکٹس، تحقیق، تدریس اور پیشہ وارانہ طرزِ عمل میں احتساب کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
اس فریم ورک کے تحت تادیبی نگرانی کو مؤثر بنایا گیا ہے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوی علاج کی ضمانت دی گئی ہے اور مفادات کے ٹکراؤ کے مؤثر انتظام کے لئے واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ کونسل کی اولین ترجیح مریضوں کا تحفظ ہے جو صرف باصلاحیت، اخلاقی اور شفاف طبی عمل سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ضابطہ ابھرتے ہوئے اخلاقی چیلنجز کا براہِ راست احاطہ کرتا ہے اور ایسے قابلِ نفاذ معیارات متعارف کراتا ہے جو پاکستان میں صحت کی فراہمی کو اعلیٰ ترین معیار تک لے جائیں گے۔
اس نظرِ ثانی کا ایک اہم سنگِ میل معذور افراد کی میڈیکل و ڈینٹل تعلیم اور پیشہ وارانہ عمل میں شمولیت سے متعلق جامع رہنما اصولوں کا اجرا ء ہے۔ یہ اقدامات قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہیں جن میں یونائیٹڈ نیشنز کے تحت کنونشن برائے حقوقِ معذوراں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (یو این سی آر پی ڈی) کا گلوبل ڈس ایبلٹی ایکشن پلان اور ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن (ڈبلیو ایف ایم ای)کے معیارات شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تعلیم بنیادی حق ہے اور اسے صنف یا جسمانی معذوری کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا بشرطیکہ پیشہ ورانہ اہلیت اور مریضوں کی حفاظت متاثر نہ ہو۔نظرِ ثانی شدہ ضابطے کے تحت تسلیم شدہ میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں 2 سے 5 فیصد معذوری کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
داخلہ فنکشنل کیپسٹی اسیسمنٹ کے ذریعے طے ہوگا، ساتھ ہی مروجہ تعلیمی معیار، بشمول ایم ڈی کیٹ اور ایف ایس سی/آئی بی سی سی مساوات، لازمی ہوں گے۔ پریکٹس اور لائسنس کے لئے اہلیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امیدوار بنیادی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں محفوظ اور مؤثر انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو جبکہ مناسب سہولیات جیسے معاون ٹیکنالوجی، موافق تربیتی ماحول، قابلِ رسائی سہولیات اور امتحانی انتظامات فراہم کئے جائیں گے۔
شفاف اور معیاری جائزے کو یقینی بنانے کے لئے پی ایم ڈی سی وفاقی اور صوبائی سطح پر کثیر الشعبہ میڈیکل فٹنس بورڈز قائم کرے گی جن میں متعلقہ ماہرین اور معذور افراد کے حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈز فنکشنل اسیسمنٹ، موزوں شعبہ جات کی سفارش، لائسنس کے لئے فٹنس کی تصدیق اور اپیل کے منظم نظام کی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ہر پانچ سال بعد نظرِ ثانی کا نظام مسلسل اہلیت اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اعادہ کیا کہ شمولیت اصول اور قانون دونوں کا تقاضا ہے تاہم مریضوں کی حفاظت ہمیشہ مقدم رہے گی۔ کسی امیدوار کو صرف معذوری کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جائے گا، البتہ باقاعدہ جائزہ اس کی عملی صلاحیت کا تعین کرے گا۔
تمام تسلیم شدہ اداروں کو ڈس ایبلٹی سپورٹ یونٹس قائم کرنے، فیکلٹی کو جامع تربیت دینے اور سالانہ تعمیلی رپورٹس جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے جبکہ عدم تعمیل یا حفاظتی امور سے متعلق معلومات چھپانے پر ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔نظرِ ثانی شدہ ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ العمل ہے اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی باقاعدہ نظام کے تحت کی جائے گی۔
اس اصلاح کو پاکستان میں صحت کے شعبے کی حکمرانی کے لئے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیتے ہوئے صدر پی ایم ڈی سی نے عزم ظاہر کیا کہ کونسل اخلاقی معیارات کے فروغ، جامع فضیلت کے قیام اور ہر مریض کو محفوظ، باوقار اور معیاری علاج کی فراہمی کے لئے پُرعزم رہے گی۔
a








