ہیلتھ کیئر منصوبے کے ذریعے تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماریوں کی روک تھام، کم لاگت اور درست تشخیص کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا،وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر کا مقصد لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، اس منصوبے کے ذریعے تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماریوں کی روک تھام، کم لاگت اور درست تشخیص کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر …

اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر کا مقصد لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، اس منصوبے کے ذریعے تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماریوں کی روک تھام، کم لاگت اور درست تشخیص کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران سی ای او نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے نیشنل ہیومن جینوم پراجیکٹ کے خدوخال، مقاصد اور اس کی قومی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستانی آبادی کے منفرد جینیاتی خدوخال کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نیشنل ہیومن جینوم پراجیکٹ ملک کے لئے جینومک خودمختاری کے حصول میں کلیدی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ماہرین کے اشتراک سے ایک جامع عملی حکمتِ عملی مرتب کرے تاکہ مستقبل قریب میں پاکستان کے عوام جدید جینیاتی طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو بیماریوں سے بچانے کے لئے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور صحت کے شعبے میں جدید سائنسی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

مزید خبریں