اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرا منصب علی خان نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس نے گداگری اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور عوامی آگاہی مہمات بھی وسیع پیمانے پر چلائی جا رہی ہیں۔سینیٹ اجلاس میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران انہوں نے بتایا کہ گرفتار …
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس نے گداگری اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، عوامی آگاہی مہمات بھی وسیع پیمانے پر چلائی جا رہی ہیں، ڈاکٹر شذرا منصب علی خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرا منصب علی خان نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس نے گداگری اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور عوامی آگاہی مہمات بھی وسیع پیمانے پر چلائی جا رہی ہیں۔سینیٹ اجلاس میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور تمام کیسز قائمہ عدالتی طریقہ کار کے مطابق زیر کارروائی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی فرد قصور وار پایا گیا، اسے مناسب قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔وزیر مملکت نے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سال بھر جاری مہم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرد اور خواتین کی خصوصی ٹیمیں عوامی مقامات، ٹریفک سگنلز اور مارکیٹوں میں نگرانی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بچوں اور خواتین کی گداگری میں ملوث ہونے کی صورت میں ان کی بحالی کے لیے فلاحی اداروں، وزارت انسانی حقوق، یونیسف، ایف آئی اے اور آئی سی ٹی انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ شہر میں گشت کے لئے ابابیل اور ڈولفن کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور چیک پوسٹس کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ کم عمر افراد اور خواتین کے استحصال کو روکا جا سکے۔عوامی آگاہی مہمات بھی ایف ایم ریڈیو، سوشل میڈیا، مساجد، سکولوں اور کالجوں کے ذریعے چلائی گئی ہیں تاکہ براہ راست بھکاریوں کو خیرات دینے سے روکا جا سکے۔وزیر مملکت نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یکم فروری 2025ء سے 31 جنوری 2026ء تک کل 345 ایف آئی آرز اور 775 قلندرجات کے کیسز درج کیے گئے جن کے نتیجے میں 4,274 افراد، جن میں مرد، خواتین اور ٹرانس جینڈر شامل ہیں،کو گرفتار کر کے عدالتی لاک اپ یا شیلٹرز میں بھیجا گیا۔
تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال سے متعلق خدشات کے حوالے سے ڈاکٹر شذرا منصب علی خان نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں سکولوں اور کالجوں میں طلبہ کے اندر منشیات کے استعمال یا رکھنے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی تاہم اس دوران تعلیمی اداروں کے قریب منشیات کی فروخت کے 24کیسز درج کیے گئے جن میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ آئی سی ٹی پولیس نے سکولوں، کالجوں، مساجد اور عوامی مقامات پر ’’نشہ اب نہیں‘‘ کے عنوان سے آگاہی مہم شروع کی ہے اور والدین و طلبہ کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے سول سوسائٹی کے ساتھ شراکت کی ہے۔
منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے صوبائی پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ساتھ ہم آہنگی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔مزید برآں پولیس افسران کی استعداد بڑھانے کے لیے 2024–25 کے دوران 106 خصوصی تربیتی کورسز منعقد کیے گئے تاکہ تحقیقات مضبوط اور سزا کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور پراسیکیوٹرز کے ساتھ قریبی رابطہ یقینی بنایا گیا ہے تاکہ کیسز موثر طریقے سے کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ (سی این ایس اے) کے تحت نمٹائے جا سکیں۔








