اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے …
وزیر اعظم شہباز شریف اورترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،خطے میں امن و استحکام کے قیام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق منگل کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ترکیہ کے ایوان صدر کی طرف سے "ایکس ” پر جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے گفتگو کے دوران پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ کی کوششوں سے طے پانے والی جنگ بندی کی بحالی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ صدر اردوان نے زور دیا کہ ایران کے خلاف حملوں سے شروع ہونے والے تنازعات کے حوالے سے خطے میں دوبارہ سفارتی عمل کا آغاز انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترکیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔








