کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال اور غیر متوازن طرزِ زندگی کے باعث موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے، ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال اور غیر متوازن طرزِ زندگی کے باعث موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے جو ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں ذیابیطس کے حوالے سے آگاہی مہم کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال اور غیر متوازن طرزِ زندگی کے باعث موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے جو ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں ذیابیطس کے حوالے سے آگاہی مہم کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر تین میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے ،جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ اگر ہم نے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنا ہے تو ہمیں اپنی خوراک اور عادات بدلنا ہوں گی۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ فاسٹ فوڈ، زیادہ چکنائی اور نمک والی غذاؤں اور شوگر سے بھرپور مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال نئی نسل کو خطرناک حد تک متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ موٹاپے کا شکار ہے، جو مستقبل میں صحت کے بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تعلیمی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ بچوں میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے نیشنل پروگرام برائے ذیابیطس ملیٹس کے تحت آگاہی اور سکریننگ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں موٹاپے اور غیر متعدی امراض کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر عالمی شراکت داروں اور ڈنمارک کے سفیر کی شرکت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون سے صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر متعدی امراض کا بڑھتا ہوا بوجھ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ صحت کا نظام اتنی بڑی تعداد میں بائی پاس آپریشنز، اینجیوگرافیز اور اینجیو پلاسٹیز کا متحمل نہیں ہو سکتا، خصوصاً جب کم عمر افراد میں دل کے امراض بڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی اور ناقص غذائی عادات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے کی ترقی اور ہسپتالوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم بیماریوں کی روک تھام کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا اولین ترجیح ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موثر آگاہی مہمات کے ذریعے قوم کو صحت مند غذا کے انتخاب اور طرزِ زندگی میں بہتری کی جانب راغب کیا جائے گا تاکہ ایک صحت مند اور توانا پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال اور غیر متوازن طرزِ زندگی کے باعث موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے جو بالآخر ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں ذیابیطس کے حوالے سے آگاہی مہم کے آغاز کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر تین میں سے ایک فرد موٹاپے کا شکار ہے ،جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ اگر ہم نے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنا ہے تو ہمیں اپنی خوراک اور عادات بدلنا ہوں گی۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ فاسٹ فوڈ، زیادہ چکنائی اور نمک والی غذاؤں اور شوگر سے بھرپور مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال نئی نسل کو خطرناک حد تک متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ موٹاپے کا شکار ہے، جو مستقبل میں صحت کے بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ بچوں میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے نیشنل پروگرام برائے ذیابیطس ملیٹس کے تحت آگاہی اور اسکریننگ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں موٹاپے اور غیر متعدی امراض کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر عالمی شراکت داروں اور ڈنمارک کے سفیر کی شرکت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون سے صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر متعدی امراض کا بڑھتا ہوا بوجھ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ صحت کا نظام اتنی بڑی تعداد میں بائی پاس آپریشنز، اینجیوگرافیز اور اینجیو پلاسٹیز کا متحمل نہیں ہو سکتا، خصوصاً جب کم عمر افراد میں دل کے امراض بڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی اور ناقص غذائی عادات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحت کے شعبے کی ترقی اور ہسپتالوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم بیماریوں کی روک تھام کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا اولین ترجیح ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مؤثر آگاہی مہمات کے ذریعے قوم کو صحت مند غذا کے انتخاب اور طرزِ زندگی میں بہتری کی جانب راغب کیا جائے گا تاکہ ایک صحت مند اور توانا پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔