اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ متنازعہ دورہ اسرائیل کے دوران وزیر اعظم نتن یاہو کو ایران کے خلاف اپنے بھر پور تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے کا کہنا کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے …
مودی نے نیتن یاہو کو ایران کے خلاف اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، ڈگلس میکگریگر

مزید خبریں
اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ متنازعہ دورہ اسرائیل کے دوران وزیر اعظم نتن یاہو کو ایران کے خلاف اپنے بھر پور تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے کا کہنا کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔
کرنل ڈگلس میک گریگرنے کہا کہ مودی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں “پوسٹر بوائے” کے طور پر استعمال ہوئے۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے(امریکی) تمام اڈے اور بندرگاہی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں بھارت اور بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران ہماری توقعات کے برخلاف اب تک بہت اچھا کر رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کب تک برقرار رکھی جا سکتی ہے، کیونکہ اس میں لاجسٹکس سب سے کمزور پہلو ہے۔
میک گریگر نے کہاکہ آرمی کو دوبارہ رسد بھیجنی پڑتی ہے، سامان ہوائی یا بحری راستے سے پہنچانا پڑتا ہے۔ ایران ایک براعظمی طاقت ہے، اس کی آبادی 93 ملین ہے اور رقبے کے لحاظ سے مغربی یورپ کے برابر ہے۔ چین اور روس بھی براعظمی طاقتیں ہیں اور انہیں رسد کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہیں اور ان دونوں ملکو ں کی صنعتی صلاحیتیں برقرار ہیں۔
سابق مشیر نے کہا کہ ایران کے تمام صوبوں میں موجود میزائل سسٹمز اور ذخائر اب بھی محفوظ ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس صورتحال میں کیا کرے گا۔میک گریگر نے زور دیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں انہیں تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین آبنائے ہرمز میں حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ روس اور چین اس وقت صورتحال کا بغور مشاہدہ کررہے ہیں، دونوں ممالک ایرانی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کررہے ہیں، جس نے حالیہ کامیابیوں میں خاص طور پر اسرائیل اور امریکی اڈوں پر اثر ڈالا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے بھی” دی وائر“ میں ایک ایک مضمون میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سستا اشتہار قرار دیا۔
انہوں نے لکھا کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی تھا۔ مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں انکی مدد کی-” بلوم برگ“ نے بھی لکھا کہ مودی کا ایران حملے سے پہلے دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا۔ ”الجزیرہ“ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کوغزہ میں نسل کشی کے لئے ہر طرح کی امداد دی۔ ”ٹی آر ٹی ورلڈ “ نے لکھا نریندر مودی ایران کے معاملے پر اپنے سیاسی مفاد کی وجہ سے خاموش ہیں۔
سیاسی مبصرین کہتے کہ ایران کی چا بہار بندگارہ پر اب تک کوئی حملہ نہیں ہوا لہذا کیامودی کا دورہ اسرائیل چابہار بندرگاہ کے تحفظ کیلئے پس پردہ یقین دہانیوں کے لئے تھا۔اڈانی گروپ کی اسرائیلی حیفہ اور ایرانی چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری ہے۔ مودی نے اپنے دیرینہ دوست گوتم اڈانی کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لئے اسرائیل سے بندگارہ پرحملے نہ کرنے کی درخواست کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کیا قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دی گئی؟کیا مودی ایک کاروباری فائدے کے لئے ایرانی قیادت کی ہلاکت پر خاموش ہیں ؟ ۔
بھارتی حزب اختلاف نے بھی مودی کے دورہ اسرائیل کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی قرار دیا۔ کانگریس، کیمونسٹ پارٹی کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیر کے سیاسی رہنمائوں اور سول سوسائٹی نے مودی کی منافقانہ سیاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن بھارتی پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ کانگریس کے رہنماﺅں سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔
ایران کے خلاف جارحیت پر مودی کی مسلسل خاموشی پر بھارتی شہرو ں کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے ۔بھارت کا ایک دم سے اسرائیل کی جھولی بھی گرجاناثابت کرتا ہے کہ وہ ایک ناقابل اعتبار اتحادی ہے ، مودی نے ایران سے تمام فوائد اٹھا کر باالآخر اس سے آنکھیں پھیر لیں۔








