وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیرصدارت کمیٹی برائے آلو کی برآمدات کا چوتھا اجلاس

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کمیٹی برائے آلو کی برآمدات کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی تاکہ ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیش نظر برآمدات کے موجودہ منظرنامے کا جائزہ لیا جا سکے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب پاکستان کی اہم علاقائی …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کمیٹی برائے آلو کی برآمدات کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی تاکہ ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیش نظر برآمدات کے موجودہ منظرنامے کا جائزہ لیا جا سکے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب پاکستان کی اہم علاقائی منڈیوں تک رسائی میں لاجسٹک مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ایران میں موجود جنگ نما صورتحال کی وجہ سے روایتی راستے غیر محفوظ ہو گئے ہیں جبکہ افغانستان کی سرحد بند ہے جس سے وسطی ایشیائی منڈیوں تک زمینی رابطے محدود ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ خلیجی راستوں تک محدود رسائی نے بھی برآمداتی سرگرمیوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ان حالات کے پیش نظر کمیٹی نے برآمدات کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل اور قابل عمل راستوں پر غور کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے سب سے موثر راستہ چین کے ذریعے ہے۔

حکومت متعلقہ حکام کے ساتھ فعال رابطے میں ہے تاکہ اس راستے کے ذریعے تجارت کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باعث نقل و حمل اور فریٹ لاگت میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان کو ہدفی ٹرانسپورٹ سبسڈی اور رعایتی فریٹ کی فراہمی کی حکومتی عزم پر زور دیا۔ یہ اقدامات بیرونی رکاوٹوں کی وجہ سے اضافی اخراجات کو کم کرنے اور پاکستانی آلو کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔کمیٹی نے برآمداتی منڈیوں میں تنوع لانے پر بھی غور کیا تاکہ روایتی مارکیٹوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

کچھ خلیجی راستوں کی وقتی بندش اور محدودیت کی وجہ سے وزارت فعال طور پر دورِ مشرقی ممالک، خاص طور پر انڈونیشیا میں مواقع تلاش کر رہی ہے جہاں طلب کے امکانات موجود ہیں۔ مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے لیے تجارتی نمائندوں اور درآمد کنندگان کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔حکومت کے عزم کو دوہراتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی کا تحفظ، گھریلو قیمتوں کا استحکام اور پاکستان کی زرعی برآمدات کی بنیاد کو مضبوط کرنا اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط، وقت کی پابند اور عملی اقدامات لازمی ہیں تاکہ پاکستان کی نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں موجودگی کو فروغ دیا جا سکے۔