پاکستان نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کے تحت بڑی قربانیاں دی ہیں ،افتخار علی ملک

لاہور۔5مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی قسم کی کمی کرتا ہے تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا اور پاکستان کو اس خلاف ورزی کے جواب کا مکمل حق حاصل ہے، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے …

لاہور۔5مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی قسم کی کمی کرتا ہے تو یہ جنگی اقدام کے مترادف ہوگا اور پاکستان کو اس خلاف ورزی کے جواب کا مکمل حق حاصل ہے، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ جمعرات کو یہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے بھارت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل، توڑ یا تبدیل نہیں کر سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کے بہائو میں جان بوجھ کر ردوبدل کرنے سے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور علاقائی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے مطابق قانونی اور سفارتی ذرائع سے باضابطہ جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے معاہدے کو معطل کرنے کے بیان کی کوئی قانونی، تکنیکی یا اخلاقی بنیاد نہیں۔تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کے تحت بڑی قربانیاں دی ہیں اور مشرقی دریائوں راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دے دیا جس کے نتیجے میں ستلج اب صرف سیلاب کے موسم میں بہتا ہے جبکہ راوی تقریبا خشک ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کے بعد اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کیں اور اب پاکستان کے دوست ممالک کو بھی اس مسئلے کے حل کے لیے متحرک کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اس سلسلے میں عالمی بینک جو سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے، کو اس معاملے میں مداخلت کے لیے کہا جانا چاہیے۔