اقوام متحدہ۔5مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے پاکستانی اعلیٰ عہدیدار رفیع الدین احمد کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں ان کی خدمات،عاجزی، اصولوں پر ثابت قدمی اور کثیرالجہتی نظام پر ان کے پختہ یقین پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ رفیع الدین احمد گزشتہ سال کے آخر میں انتقال کر گئے تھے۔ رفیع الدین احمد نے اقوام متحدہ میں کئی اہم …
اقوام متحدہ پاکستانی سفارتکار رفیع الدین احمد کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔5مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے پاکستانی اعلیٰ عہدیدار رفیع الدین احمد کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں ان کی خدمات،عاجزی، اصولوں پر ثابت قدمی اور کثیرالجہتی نظام پر ان کے پختہ یقین پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ رفیع الدین احمد گزشتہ سال کے آخر میں انتقال کر گئے تھے۔
رفیع الدین احمد نے اقوام متحدہ میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں سیکرٹری جنرل کے چیف ڈی کیبنٹ، انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور، ٹرسٹیشپ اینڈ ڈی کالونائزیشن اور انڈر سیکرٹری جنرل برائے بین الاقوامی اقتصادی و سماجی امور شامل ہیں۔ رفیع الدین احمد اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر بھی رہے۔ یہ تقریب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نےاقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز (ڈی ای ایس اے) کے تعاون سے منعقد کی، جس میں ممتاز سفارتکاروں، سابق ساتھیوں، سینئر اقوام متحدہ حکام، دوستوں اور اہلِ خانہ نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کی۔ انہوں نے رفیع الدین احمد کو ’’پاکستان کا بیٹا اور دنیا کا شہری‘‘ قرار دیا۔ ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ رفع الدین احمد کی وفات سے اقوام متحدہ میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے آسانی سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی خدمات پر مشتمل ان کے پچاس سال سے زائد عرصے پر محیط کیریئر نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بلند معیار قائم کیا ہے جس تک پہنچنے کے لیے بہت محنت درکار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رفیع الدین احمد کے چھوڑے ہوئے ورثے پر بے حد فخر ہے کیونکہ انہوں نے سفارتکاری، مکالمے اور امن کے صبر آزما حصول پر مبنی خدمت کی بہترین مثال قائم کی۔ مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ تقریب صرف ایک عظیم شخصیت کو یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک غیر معمولی زندگی کا جشن منانے کے لیے بھی منعقد کی گئی ہے تاکہ رفیع الدین احمد کی خدمات کو یاد رکھا جائے اور انہیں آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد کی قیادت کئی دہائیوں تک نمایاں رہی۔ انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا اور کمبوڈیا میں انسانی ہمدردی اور امن کی کوششوں سے لے کر لاؤس، تھائی لینڈ اور میانمار میں ذمہ داریوں کی انجام دہی تک اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح قندھار میں ایک عملے کی رہائی میں بھی ان کی کوششیں قابلِ ذکر رہیں جبکہ وہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی علمی گہرائی اور اس کوشش کے لیے یاد رکھا جائے گا کہ اقوام متحدہ کا نظام دنیا کے تمام لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد ہمیشہ طریقہ کار سے زیادہ انسانوں کو اہمیت دیتے تھے اور نوجوان ساتھیوں کے لیے بہترین ٹیم لیڈر تھے۔
مقررین نے کہا کہ مختلف اعلیٰ عہدوں پر ان کی قیادت نے پائیدار ترقی، اقتصادی تعاون اور جامع کثیرالجہتی پالیسی سازی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد کی اصل پہچان صرف پیشہ ورانہ مہارت نہیں بلکہ وہ انسانیت تھی جو وہ اپنے کام میں لاتے تھے۔ وہ ساتھیوں کے لیے رہنما، دانشمندانہ آواز اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھے۔
اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے ڈیاپرٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز (ڈی ای ایس اے) کے انڈ سیکرٹری جنرل لی جون ہوا ( Li Junhua ) نے کہا کہ رفیع الدین احمد کے اصولوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے، جن میں کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا، اخلاقی قیادت کو فروغ دینا اور ایک زیادہ منصفانہ، پُرامن اور مساوی دنیا کے لیے کام کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد کے نزدیک کثیرالجہتی نظام صرف سفارتی فریم ورک نہیں بلکہ اجتماعی ترقی اور مشترکہ ذمہ داری کا اخلاقی عزم تھا۔
مرحوم کے بڑے بیٹے ضیا احمد نے تقریب کے انعقاد پر پاکستانی مشن اور اپنے والد کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نےان کی پیشہ ورانہ مہارت اور متوازن فیصلوں کی وجہ سے اپنے والد کو ایسی شخصیت قرار دیا جس کے اثرات آج بھی باقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے والد ادارہ جاتی امور کے بارے میں گہری سمجھ رکھتے تھے اور ہر چیلنج کا سامنا باریک بینی اور مکمل توجہ کے ساتھ کرتے تھے۔ وہ پُرسکون اور اعتماد کے ساتھ مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑھ کر وہ ایک مخلص انسان تھے جو ہر فرد کے ساتھ مساوی عزت اور احترام سے پیش آتے تھے اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہونے پر گہرا فخر ہے کہ وہ ایسے عظیم انسان کے بیٹے ہیں۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے ڈیاپرٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز (ڈی ای ایس اے) کے لئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نوید حنیف نے کہا کہ مرحوم رفیع الدین احمد کی زندگی اور خدمات کو تین بنیادی حقیقتوں نے نمایاں کیا۔انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد کے لیے اقوام متحدہ صرف ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ ایک مقصد اور مشن تھا۔
انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد سمجھتے تھے کہ اداروں سے بڑھ کر انسانوں کی اہمیت ہوتی ہے اور حقیقی قیادت اختیار یا طاقت سے نہیں بلکہ دوسروں کو بااختیار بنانے اور انہیں آگے بڑھانے سے جنم لیتی ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ اگرچہ رفیع الدین احمد کی اقوام متحدہ میں خدمات اور کامیابیاں سب کے سامنے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے، لیکن ان کے لیے وہ اس سے کہیں بڑھ کر تھے۔ انہوں نے کہا کہ رفیع الدین احمد نہ صرف ایک ممتاز بین الاقوامی سرکاری افسر تھے بلکہ ان کے لیے ایک مینٹور اور قریبی دوست بھی تھے۔
منیر اکرم نے کہا کہ جب وہ 2003 میں پاکستان کے مستقل مندوب کے طور پر اقوام متحدہ پہنچے، اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا دور تھا اور اس موقع پر رفیع الدین احمد وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے انہیں رہنمائی فراہم کی۔ جو افراد ذاتی طور پر تقریب میں شرکت نہیں کر سکے، انہوں نے وڈیو بیانات اور پیغامات کے ذریعے مرحوم رفیع الدین احمد کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ تقریب کے دوران رفیع الدین احمد کی زندگی اور خدمات کے اہم لمحات پر مشتمل ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔








