اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی)نے سندھ کے ضلع سجاول کی بیلو یونین کونسل میں 4 سالہ بچے میں پولیو وائرس ہونے کی تصدیق کر دی ہے،جو رواں سال کا پہلا پولیو وائرس کیس ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے حکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کیس پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ ہوا جس کی تصدیق اسلام آباد میں …
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے سندھ میں 4 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی)نے سندھ کے ضلع سجاول کی بیلو یونین کونسل میں 4 سالہ بچے میں پولیو وائرس ہونے کی تصدیق کر دی ہے،جو رواں سال کا پہلا پولیو وائرس کیس ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے حکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کیس پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ ہوا جس کی تصدیق اسلام آباد میں واقع ریجنل ریفرنس لیبارٹری فار پولیو ایریڈیکیشن ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ ) نے کی۔
پولیو کے خاتمے کے پروگرام (پی ای آئی ) کی جانب سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور موثر ردعمل کے لیے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق چیلنجز کے باوجود پولیو کے خاتمے کے پروگرام کی کوششیں جاری ہیں۔ 1994 سے اب تک پولیو ویکسین کی بدولت پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آ چکی ہے، جہاں 1990 کی دہائی کے آغاز میں اندازاً 20 ہزار کیس رپورٹ ہوتے تھے جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 31 رہ گئی۔ 2026 میں آئندہ قومی مہم اپریل میں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ سندھ کے بعض اضلاع اور جنوبی خیبرپختونخوا کے علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی سامنے آ رہی ہے۔
یہ صورتحال وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے مزید موثر اور ہدفی اقدامات اور بچوں کی مسلسل ویکسی نیشن کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو زندگی بھر کی معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم پولیو ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے موثر تحفظ ممکن ہے جو محفوظ اور موثر ہے۔
پولیو کا خاتمہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جہاں فرنٹ لائن ورکرز پولیو سے بچائو کی ویکسی نیشن کی ہر بچے تک رسائی کے لیے کوشاں ہیں۔ پولیو کے خاتمے کے پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ماہرین کے مطابق کمیونٹیز، مذہبی رہنما اور میڈیا بھی عوام میں آگاہی بڑھانے، غلط معلومات کا سدباب کرنے اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔








