پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان طویل مدتی یورینیم سپلائی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان سمال ماڈیولر ری ایکٹرز اور جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجیز میں ممکنہ تعاون پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان طویل المدتی یورینیم فراہمی کے معاہدے اور دونوں ممالک کے مابین چھوٹے جوہری ری ایکٹروں اور جدید جوہری ری ایکٹروں کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے معاہدے اور جوہری ری ایکٹروں کی جدید ٹیکنالوجی …

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان طویل المدتی یورینیم فراہمی کے معاہدے اور دونوں ممالک کے مابین چھوٹے جوہری ری ایکٹروں اور جدید جوہری ری ایکٹروں کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے معاہدے اور جوہری ری ایکٹروں کی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ یہ انتظام سول جوہری تعاون کے شعبے میں ایک اور ملک کے لیے متعصبانہ استثنا کی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر خاص طور پر قابِل توجہ ہے کہ بھارت کا 1974 کا جوہری تجربہ ایک ایسے ری ایکٹر سے حاصل کردہ پلوٹونیم کے استعمال سے کیا گیا تھا جو کینیڈا نے پُرامن مقاصد کے لیے فراہم کیا تھا اور یہ براِہ راست جوہری فراہم کنندگان کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قیام کا سبب بنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسی ریاست جس کے اقدامات عالمی برآمدی ضوابط کے نظام کے قیام کا موجب بنے، اب منتخب انتظامات کے تحت ترجیحی رسائی حاصل کررہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے نہ تو اپنی تمام سول جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا ہے اور نہ ہی اس انتظام کے تحت ایسا کرنے کا کوئی پابند عہد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد تنصیبات بدستور بین الاقوامی معائنہ کے دائرۂ کار سے باہر ہیں، مزید برآں یہ بھی واضح نہیں کہ اس معاہدے کے ساتھ جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی ٹھوس یقین دہانیاں منسلک ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس انتظام کے تزویراتی مضمرات بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بیرونی ذرائع سے یورینیم کی یقینی فراہمی دراصل بھارت کے اندرونی ذخائر کو عسکری مقاصد کے لیے دستیاب بنادیتی ہے جس کے نتیجے میں قابِل انشطار مواد کے ذخائر میں اضافہ، اس کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے توسیع اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن میں پہلے سے موجود عدم توازن کے مزید بگڑنےکا خدشہ ہے، اس تناظر میں یہ انتظام عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے حوالے سے کینیڈا کے عزم اور اس کے تحت اس کی متعلقہ ذمہ داریوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ سول جوہری تعاون کو غیر امتیازی اور معیارات پر مبنی ایسے طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے جو ان تمام ریاستوں پر یکساں طور پر لاگو ہو جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی فریق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعصبانہ استثنائی انتظامات عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں اور خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔