پاکستان میں سیاحت اور ریسکیو مشنز کے لیے نجی ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے کا منصوبہ، نجی کمپنیوں کو ہیلی کاپٹر سروسز کے شعبے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، صدر الپائن کلب میجر جنرل (ر) عرفان ارشد

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں سیاحت اور ریسکیو آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر ملک میں پہلی بار نجی ہیلی کاپٹر سروسز رواں سال اپریل سے مئی تک شروع ہونے کی توقع ہے،نجی آپریٹرز کو ریسکیو مشنز کے ساتھ ساتھ سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کی بھی اجازت ہوگی۔ یہ بات الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر …

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں سیاحت اور ریسکیو آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر ملک میں پہلی بار نجی ہیلی کاپٹر سروسز رواں سال اپریل سے مئی تک شروع ہونے کی توقع ہے،نجی آپریٹرز کو ریسکیو مشنز کے ساتھ ساتھ سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کی بھی اجازت ہوگی۔ یہ بات الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد نے جمعرات کو اے پی پی کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔ عرفان ارشد نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے بلند پہاڑی علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی اور کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کے لیے ریسکیو صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے،اب تک ہیلی کاپٹر آپریشنز زیادہ تر فوجی ہوا بازی کے ذریعے انجام دیے جاتے رہے ہیں اور وہ بھی بنیادی طور پر ریسکیو مشنز کے لیےخدمات فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نجی ہیلی کاپٹر سروسز نہ ہونے کے باعث سیاحتی سفاری، نقل و حمل اور کوہ پیمائی کی مہم کے لیے لاجسٹک سپورٹ کے مواقع محدود رہے ہیں، خاص طور پر اُن ٹیموں کے لیے جو پاکستان کی شمالی چوٹیوں کی جانب جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال جیسے ممالک پہلے ہی نجی ہیلی کاپٹر سیکٹر کومضبوط بنا چکے ہیں، نیپال میں تقریباً 13 ہیلی کاپٹر ایوی ایشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں،کچھ کے پاس دو ہیلی کاپٹر ہیں، کچھ کے پاس تین جبکہ بعض کے پاس دس تک بھی ہیں۔

پاکستان میں پیش رفت پر امید کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور مسلح افواج دونوں اس اقدام کی حمایت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خاصی پیش رفت کی ہے،حکومت اس منصوبے میں سنجیدہ ہے اور فوج بھی اس عمل کی حمایت کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور وزارت دفاع کے ذریعے نجی کمپنیوں کو ہیلی کاپٹر سروسز کے شعبے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔عرفان ارشد نے بتایا کہ نجی آپریٹرز کو ریسکیو مشنز کے ساتھ ساتھ سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کی بھی اجازت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انہیں ریسکیو آپریشنز کے ساتھ سیاحتی سفاری اور دیگر خصوصی پروگرامز، جن میں بعض اداروں کی معاونت بھی شامل ہوگی، چلانے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپریل سےمئی تک نجی شعبے کے تقریباً پانچ سے چھ ہیلی کاپٹر آپریشن شروع کر دیں گے،اس منصوبے میں مختلف اداروں کے ہیلی کاپٹر شامل ہوں گے۔

بعض سرکاری ادارے بھی نجی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر خدمات فراہم کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ چند غیر ملکی کمپنیوں نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ادارے، جن میں سرکاری ادارے بھی شامل ہیں، خدمات فراہم کریں گے جبکہ کچھ براہ راست نجی کمپنیاں بھی آ رہی ہیں۔ ایک اطالوی اور ایک نیپالی کمپنی کے شامل ہونے کی توقع ہے۔

عرفان ارشد کے مطابق یہ سروسز نہ صرف ریسکیو صلاحیت میں اضافہ کریں گی بلکہ پاکستان میں پہاڑی سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ریسکیو آپریشنز کے ساتھ ساتھ مختلف سیاحتی پروگرام بھی شروع کریں گے۔ کے ٹو، براڈ پیک اور نانگا پربت جیسی مشہور چوٹیوں کے فضائی سفاری بھی متعارف کرائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ نجی ہیلی کاپٹر سروسز کے آغاز سے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ پہاڑ بین الاقوامی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کے لیے مزید قابل رسائی ہو جائیں گے۔