لاہور۔5مارچ (اے پی پی):استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے،عالمی برادری کو بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا نوٹس لینا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ''اے پی پی'' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس …
بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے،عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے،سید صمصام علی شاہ بخاری

مزید خبریں
لاہور۔5مارچ (اے پی پی):استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے،عالمی برادری کو بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا نوٹس لینا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ”اے پی پی” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت اور لائف لائن ہے،بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے،جس کے لیے عالمی برادری کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم پیدا نہ ہو ۔
سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ1960 میں طے پایا اور اس کے تحت پاکستان کو مغربی دریاوں کے پانی پر واضح اور تسلیم شدہ حق حاصل ہے،جس کی بدولت ملک کا زرعی نظام،خوراک کی پیداوار اور پن بجلی کا شعبہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے،یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور استحکام کیلئے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے،ملکی تمام جماعتیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس معاملے پر ایک ہیں۔انہوں نے عالمی برداری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند کیا جائے کیونکہ پانی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسے سیاسی دبائو کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے،تاکہ خطے میں امن استحکام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے –
سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پاکستان کو اپنے آبی وسائل کے بہتر انتظام پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے،نئے ڈیموں کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری، واٹر اسٹوریج کی گنجائش میں اضافہ اور جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اہم ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے عالمی فورمز پر پاکستان کا موقف مضبوط اور مدلل انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کے آبی حقوق کا ہر سطح پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی حکومت عالمی قوانین کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی چارہ جوئی سمیت دیگر آپشنز استعمال کرتے ہوئے اس حوالے سے جلد سفارتی کامیابی حاصل کر لے گی۔








