سپریم کورٹ،دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت12 مارچ تک ملتوی

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کے حقِ دفاع کے خاتمے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار …

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کے حقِ دفاع کے خاتمے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل راشد حفیظ کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ راشد حفیظ اس وقت لندن میں ہیں، اس لیے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی جائے۔

اس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج درخواست گزار کو سن لیتے ہیں اور آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کو بھی سن لیا جائے گا۔دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کئی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا تھا اور چار سال بعد دعوے کا جواب جمع کروایا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اتنی تاخیر کے باوجود اگر عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی تو کیا کرتی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ دلائل دیتے وقت نظرثانی کے دائرہ اختیار کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ بانی پی ٹی آئی کا زخمی ہونا اور ہسپتال میں زیر علاج ہونا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس نقطے پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے واقعات اہم نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بیان حلفی جمع نہ کرانے کی وجہ کیا تھی۔بیرسٹر علی ظفر کے مطابق سول کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 8 نومبر تک بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا جبکہ 3 نومبر 2022 کو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے 8 اور 17 نومبر کی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم بھی کیا تاہم 22 نومبر 2022 کو حق دفاع ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سزائے موت کا مقدمہ نہیں کہ حق دفاع بحال ہونے سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث وکلا کی بانی پی ٹی آئی سے ہسپتال میں ملاقاتیں بھی روکی گئیں اور انہیں بیان حلفی کے لیے ہسپتال سے باہر لانا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے۔

عدالت نے مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ سول کورٹ کو کیس میں مزید کارروائی سے روک چکی ہے۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس سے دستبردار ہونے کے بدلے دس ارب روپے کی پیشکش کا دعویٰ کیا تھا، جس پر شہباز شریف نے 2017 میں ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔