نیب آرڈیننس میں ترمیم کا پرائیویٹ ممبر بل مکمل طور پرآئینی ، پارلیمانی جمہوریت کا عکاس ہے، حافظ احسان احمدکھوکھر

طاہر چوہدری اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 میں پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے ترمیم کی حالیہ تجویز نے پاکستان میں ایک اہم آئینی اور قانونی بحث کو جنم دیا ہے۔اے پی پی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس نوعیت کی بڑی قانون سازی عموماً حکومت کی جانب سے پیش کی جاتی …

طاہر چوہدری

اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 میں پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے ترمیم کی حالیہ تجویز نے پاکستان میں ایک اہم آئینی اور قانونی بحث کو جنم دیا ہے۔اے پی پی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس نوعیت کی بڑی قانون سازی عموماً حکومت کی جانب سے پیش کی جاتی ہے تاہم آئین پاکستان 1973 کے تحت پارلیمنٹ کا کوئی بھی رکن بل پیش کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 70 اور 73 قانون سازی کے طریقہ کار کو واضح کرتے ہیں اور ان کے تحت بل حکومت یا نجی ارکان دونوں کی جانب سے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس لیے احتساب کے نظام میں ترمیم کے لیے پرائیویٹ ممبر بل کا پیش ہونا آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے اور پارلیمانی جمہوریت کے فعال ہونے کی علامت ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے بتایا کہ مجوزہ بل میں نیب آرڈیننس کی شق 4، 5 اور 6 میں اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں جبکہ ایک نئی شق 32 اے بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اہم تجویز نیب کے دائرہ اختیار کے لیے مالی حد میں تبدیلی سے متعلق ہے۔ ماضی میں احتسابی نظام پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ نسبتاً چھوٹی مالی بے ضابطگیوں کے معاملات بھی نیب کے دائرہ اختیار میں آ جاتے تھے جس سے ادارے کی توجہ بڑے پیمانے کی بدعنوانی اور میگا مالی جرائم سے ہٹ جاتی تھی۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت اس حد کو پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نیب بڑے مالیاتی بدعنوانی کے مقدمات پر توجہ مرکوز کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بل میں ضمانت کے معاملات سے متعلق بھی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ ماضی میں احتساب مقدمات میں ضمانت کو عام فوجداری مقدمات کے مقابلے میں زیادہ سخت انداز میں دیکھا جاتا تھا۔ مجوزہ ترامیم کے تحت احتساب عدالتوں اور ہائی کورٹس کو ضابطہ فوجداری 1898 کی متعلقہ دفعات کے مطابق ضمانت دینے کے اختیارات کو واضح کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مؤثر احتساب اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 اے میں شخصی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس کی شق 6، جس کا تعلق چیئرمین نیب کی مدت ملازمت سے ہے، اس پر بھی بل میں غور کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق پارلیمنٹ پہلے ہی قانون سازی کے ذریعے چیئرمین نیب کی مدت چار سال سے کم کر کے تین سال کر چکی ہے تاکہ ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنایا جا سکے اور اختیارات کے ارتکاز سے بچا جا سکے۔ اس تناظر میں اگر مزید توسیع یا دوسری مدت دینے کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے تو اس سے قانون سازی کی پالیسی کے تسلسل سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی کا ایک اہم پہلو نئی شق 32 اے کا اضافہ ہے جس کے تحت قانونی سوالات پر وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل کا حق دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان کے مطابق یہ اصلاح پاکستان کی27 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والے خصوصی آئینی فورم کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اور 185 کے تحت پیچیدہ قانونی اور آئینی معاملات کی تشریح کا اختیار اعلیٰ عدالتوں کے پاس ہوتا ہے، اس لیے احتساب مقدمات میں وفاقی آئینی عدالت کو اپیلیٹ اختیار دینے سے قانون کی یکساں تشریح اور قانون کی حکمرانی کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتساب قوانین میں ترمیم کا اختیار آئینی طور پر پارلیمنٹ کے پاس ہے اور پارلیمنٹ عوامی مفاد میں قانون سازی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق نیب آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم، خصوصاً دائرہ اختیار، ضمانت، اپیل کے نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچے سے متعلق اصلاحات، پاکستان کے احتسابی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش ہیں اور اس سے شفافیت، انصاف اور ادارہ جاتی خودمختاری پر ایک مثبت آئینی بحث کو فروغ ملے گا۔